بیرسٹر گوہر کی میڈیا سے گفتگو: پی ٹی آئی کی مذاکرات کی کوششیں اور حکومت پر الزامات

بیرسٹر گوہر کی میڈیا سے گفتگو: پی ٹی آئی کی مذاکرات کی کوششیں اور حکومت پر الزامات

جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج سے متعلق ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردی کی دفعہ لگائی گئی۔

 انہوں نے بتایا کہ درخواست ضمانت پر سماعت جاری ہے اور کیس کی اگلی تاریخ 4 فروری مقرر کی گئی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ 4 فروری کو کیس ختم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا اور پارٹی نے نیک نیتی سے اس عمل کا آغاز کیا تھا، باوجود اس کے کہ حکومت کی جانب سے زیادتیاں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب اور بی بی کو جس طرح سزا دی گئی، اس کے باوجود پی ٹی آئی نے مذاکرات کا راستہ اپنایا اور دو مطالبات پیش کیے تھے جن پر بات چیت کی جانی تھی۔بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے مختلف مراحل کے بارے میں بتایا، جن میں 23 دسمبر، 2 جنوری اور 16 جنوری کو ملاقاتیں ہوئیں، اور ان کے بعد 28 جنوری کو مزید ملاقات کا شیڈول تھا۔ تاہم، 16 جنوری کو پی ٹی آئی نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ سات دنوں میں کمیشن بنانے کا اعلان کیا جائے، جس میں ججز اور دیگر اہم تفصیلات پر بات کی جانی تھی۔

 لیکن، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، جو کہ ان کی نیت کے بارے میں شک ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کمیشن بنانے کا ارادہ نہیں رکھتی تو پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ محض فوٹو سیشن کے لیے مذاکرات نہیں کرے گی۔ خان صاحب نے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور وہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی تھی۔ خان صاحب نے اس عمل کا آغاز خود کیا اور سب سے پہلے کمیٹی تشکیل دی۔