وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے جن کا مقصد پاکستان ریلویز کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور اسے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا تھا۔
اہم فیصلے اور ہدایات:
پاکستان ریلویز کی زمین کا استعمال: وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز کی زمین کو نجی شعبے کے تعاون سے کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ریلویز کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے اقتصادی ترقی بھی ممکن ہوگی۔
خطے میں تجارت بڑھانے کی حکمت عملی: وزیراعظم نے کہا کہ ریلویز کو خصوصاً وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ اس کے ذریعے پاکستان کی تجارت میں اضافہ ہو گا اور ریلویز کا کردار مزید اہم بنے گا۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: وزیراعظم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ریلویز میں مسافروں کے لیے بہتر خدمات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس طرح کے اقدامات سے ریلویز کو مالی طور پر مستحکم کیا جا سکے گا۔
نظام کی جدیدیت اور ٹیکنالوجی: وزیرِاعظم نے پاکستان ریلویز کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کو ریلویز کے آپریشنز میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا جائے گا۔
مال برداری کی خدمات کا منافع بخش بنانا: وزیراعظم نے مال برداری کی خدمات کو منافع بخش بنانے کی ہدایت کی۔ پاکستان ریلویز کو مال برداری کے شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے اور اس سے مالی فائدہ اٹھانے کی کوششوں کو تیز کرنا چاہیے۔
سیلاب کے اثرات اور بحالی:
بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران پاکستان ریلویز کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا اور 35 دن تک ریل کی پٹریاں زیرِ آب رہیں۔ اس کے باوجود، پاکستان ریلویز نے مختلف اقدامات کے ذریعے اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا اور مال برداری (Freight Operations) میں ابتدائی لاگت کے برابر منافع کمایا ہے۔
عملے کی کمی اور منصوبوں کی رفتار:
پاکستان ریلویز کی رائٹ سائزنگ کے عمل میں 18 فیصد غیر ضروری عملہ فارغ کر دیا گیا ہے تاکہ ریلویز کے اخراجات میں کمی کی جا سکے۔ مزید برآں، پاکستان ریلویز کے تھر کول منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، جس سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ یہ ملک کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ریلویز کی بحالی اور ترقی کے اقدامات کی رفتار کو تیز کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کے اندرونی اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔