50 بس سٹاپس تعمیر ہونا تھے جن میں سے اڑتیس مکمل ہو سکے
لاہور (خصوصی رپورٹ )لاہور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ کہلانے والے بس سٹاپس۔جیل روڈ پر ایک بس اسٹاپ اینٹوں کے سہارے سڑک پر کھڑا کر دیا گیا۔چھ ماہ میں مکمل ہونے والا منصوبہ ایک سال بعد بھی نامکمل ہے۔سہولت کے دعوے اپنی جگہ، مسافر آج بھی بنیادی انتظامات سے محروم ہیں۔پچاس بس سٹاپس تعمیر ہونا تھے جن میں سے اڑتیس مکمل کیے جا چکے ہیں، مگر مختلف مقامات پر معیار اور ڈیزائن سے متعلق سوالات سامنے آ رہے ہیں۔سب سے نمایاں معاملہ جیل روڈ پر ریس کورس پارک کے سامنے قائم بس سٹاپ کا ہے، جہاں ڈھانچے کو اینٹوں کی تہہ پر سڑک کے اوپر کھڑا کر دیا گیا۔ مستقل بنیادیں فراہم کرنے کے بجائے عارضی طرز تعمیر اختیار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اسی مقام پر پہلے سے موجود بس سٹاپ کو ختم کیا گیا، حالانکہ اس کے لیے باقاعدہ جگہ موجود تھی۔ اس کے باوجود نئی تنصیب سڑک کے دو سے تین فٹ حصے پر قائم کر دی گئی، جس سے مرکزی شاہراہ کی چوڑائی متاثر ہوئی اور ٹریفک روانی میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی۔اس بس اسٹاپ کو ‘‘اسٹیٹ آف دی آرٹ امپاور ہر ’’ کا نام دیا گیا تھا اور منصوبے کے تحت اندر دکان مختص کی گئی تھی تاکہ خواتین کو روزگار فراہم کیا جا سکے، تاہم دکان تاحال خالی ہے اور اندر بیٹھنے کا مناسب انتظام بھی موجود نہیں۔روزہ دار اور دیگر مسافر کھلے ڈھانچے میں کھڑے ہو کر بسوں کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ سہولت اور تحفظ کے دعوے عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔یہ منصوبہ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے زیر انتظام مکمل کیا جا رہا ہے، تاہم تعمیراتی معیار، نگرانی اور منصوبہ بندی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔