ایم ایل-ون کراچی–روہڑی سیکشن پر کام کا آغاز 2026 میں متوقع ہے، احسن اقبال

ایم ایل-ون کراچی–روہڑی سیکشن پر کام کا آغاز 2026 میں متوقع ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے حوالے سے ہے، جس میں ملک میں اہم انفراسٹرکچر منصوبوں پر پیشرفت اور مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ 

مین لائن ون (ایم ایل-ون) اور دیگر ریلوے منصوبے:

ایم ایل-ون کراچی–روہڑی سیکشن پر کام کا آغاز 2026 میں متوقع ہے۔ایم ایل-تھری کے 884 کلومیٹر اپ گریڈیشن اور تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی پراجیکٹ کا جائزہ لیا گیا۔تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے کی تخمینی لاگت 53.7 ارب روپے ہے، جس میں نئے اسٹیشنز، ڈبل ٹریک لائن اور کوئلہ ان لوڈنگ پٹ شامل ہیں، منصوبے کی تکمیل جون 2026 تک متوقع ہے۔
موٹروے منصوبے:

سکھر–حیدرآباد موٹروے کو تین سالوں میں مکمل کرنے اور اسے سب سے زیادہ ترجیحی منصوبہ قرار دینے کی ہدایت۔قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) فیز 2 کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت تاکہ دیامر بھاشا ڈیم کی وجہ سے کٹ آف ہونے سے بچا جا سکے۔سمبریال–کھاریاں–راولپنڈی موٹروے، بلوچستان میں ایم-8، مشکیل–پنجگور–چاغی روڈ منصوبے بھی اعلیٰ ترجیحی اقدامات میں شامل۔
پانی اور ہائیڈرو پاور منصوبے:

داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، تربیلا ففتھ ایکسٹینشن اور کراچی کے لیے کے-فور واٹر سپلائی منصوبوں کا جائزہ۔ہر منصوبے کے لیے سالانہ فنڈنگ اور اگلے تین سال کی مالیاتی منصوبہ بندی کی ہدایت۔مہمند ڈیم کو ترجیحی منصوبہ قرار دیا گیا، جو پانی، سیلاب کی روک تھام، آبپاشی اور توانائی کے لیے اہم ہے۔
اجلاس کے عمومی فیصلے اور ہدایات:

متعلقہ وزارتوں کو بروقت عملدرآمد، کوالٹی اشورنس اور حقیقت پسندانہ مالی منصوبہ بندی پر زور۔منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لیے مضبوط نظام قائم کرنے اور ہر پندرہ دن بعد پیشرفت کی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مربوط منصوبہ بندی، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارتی کوآرڈینیشن ملک کی ترقی اور شہریوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔
یہ اجلاس پاکستان کے اہم ریلوے، موٹروے اور پانی کے شعبوں میں ترجیحی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور موثر فنڈنگ کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنے کے لیے منعقد کیا گیا، جس سے ملک کی طویل المدتی ترقی اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔