یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے رات گئے یوکرین پر اب تک کے بڑے حملوں میں سے ایک کرتے ہوئے 500 ڈرونز اور 40 میزائل فائر کیے ہیں، جن کا ہدف توانائی کے نظام اور شہری انفرا اسٹرکچر کو بنایا گیا۔
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ روسی حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ ماسکو جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے مراکز پر حملوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔خبر ایجنسیوں کے مطابق 26 اور 27 دسمبر کی درمیانی شب روس نے یوکرین پر تقریباً 500 ڈرونز داغے جن میں بڑی تعداد ایرانی ساختہ شہید ڈرونز کی تھی، جبکہ 40 میزائل بھی فائر کیے گئے جن میں کنژال ایروبالسٹک میزائل شامل تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شہری ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ہزاروں گھروں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز اور میزائل مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگایا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری سے روسی جارحیت کے خلاف مزید حمایت اور دباؤ بڑھانے کی اپیل کی گئی ہے۔