ماسکو/کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں فضائی حملوں کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔
روسی حکام کے مطابق یوکرین نے روس کے مختلف علاقوں، روس کے زیرِ قبضہ کریمیا اور بحیرۂ اسود کے اطراف بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے، جن کے دوران مجموعی طور پر 1,015 ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔حملوں کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات، گوداموں اور صنعتی مراکز میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ روسی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ ان واقعات کو جنگ کے دوران یوکرین کی جانب سے کیے جانے والے بڑے ڈرون حملوں میں شمار کیا جارہا ہے۔الجزیرہ، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، حملوں کا اثر روس کے اہم صنعتی اور توانائی مراکز پر بھی پڑا، جبکہ سینٹ پیٹرزبرگ کے ہوائی اڈے پر حفاظتی اقدامات کے باعث پروازوں کا آپریشن متاثر ہوا۔
سینٹ پیٹرزبرگ میں آئل ٹرمینل اور صنعتی گوداموں میں آگ
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف کے مطابق، اتوار کو ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد شہر کے آئل ٹرمینل، روچی آئل ڈپو اور کولپنسکی ضلع میں واقع صنعتی گوداموں میں آگ بھڑک اٹھی۔حکام کے مطابق ہنگامی امدادی ٹیموں نے متاثرہ مقامات پر کارروائیاں شروع کیں۔ تیل کی تنصیبات اور صنعتی مراکز میں آگ لگنے کے واقعات نے توانائی اور رسد کے نظام کو لاحق خطرات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔روسی آن لائن کاروباری کمپنی اوزون نے بھی اپنے لاجسٹکس مرکز میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ یہ مرکز سامان کی ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے ایسے واقعات سے کاروباری سرگرمیوں اور سپلائی چین پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنی وی کے نے بتایا کہ لینن گراڈ کے علاقے میں اس کے ڈیٹا سینٹر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم کمپنی کے مطابق صارفین کے لیے خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں۔
لینن گراڈ میں ڈرون تباہ، ہزاروں افراد بجلی سے محروم
لینن گراڈ کے گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو کے مطابق، حملوں کے دوران تقریباً 145 ڈرونز مار گرائے گئے، جبکہ لگ بھگ 20 ہزار افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے مقامی آبادی اور کاروباری سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، بجلی کی بندش کی مکمل وجوہات اور بحالی کے وقت سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ میں واضح نہیں کی گئیں۔روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ رات کے دوران روس کے 15 علاقوں، روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی جزیرہ نما کریمیا اور بحیرۂ اسود کے اوپر مجموعی طور پر 1,015 یوکرینی ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ اس تعداد کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے ممکن نہیں۔
سینٹ پیٹرزبرگ ایئرپورٹ پر پروازیں متاثر
ڈرون حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر سینٹ پیٹرزبرگ کے مرکزی ہوائی اڈے پر بھی حفاظتی اقدامات کیے گئے، جس کے باعث پروازوں کا معمول کا آپریشن متاثر ہوا۔جنگ کے دوران فضائی حملوں کے خدشات کے باعث روسی ہوائی اڈوں پر عارضی پابندیاں اور پروازوں میں تاخیر مسافروں اور فضائی نقل و حمل کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان اختلافات
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان جنگ کے خاتمے اور روس کے خلاف اقدامات پر اختلافات نمایاں ہیں۔ٹرمپ نے روسی تیل اور توانائی کی تنصیبات پر یوکرینی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق، مزید پابندیوں سے ماسکو کے ساتھ مذاکرات اور جنگ کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یوکرینی صدر جنگ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری جانب زیلنسکی کا مؤقف ہے کہ روس نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس سے جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
زیلنسکی کا دعویٰ: روس نے توانائی کے شعبے پر 76 حملے کیے
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد بھی روس نے یوکرین کے توانائی، تیل اور گیس کے شعبوں پر ایک ہفتے کے دوران 76 حملے کیے۔زیلنسکی کے مطابق، تازہ حملوں میں وِنیٹسیا، ژیتومیر، خملنیتسکی اور اوڈیسا کے علاقوں میں بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس پر پابندیوں میں نرمی سے ماسکو کی جنگی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم، روس اور یوکرین دونوں نے امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یوکرین کے مختلف شہروں پر روسی حملے، شہری ہلاکتیں
دوسری جانب یوکرین کے حکام نے روسی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاعات بھی دی ہیں۔کیف کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق، روسی فضائی حملے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی، جبکہ ایک میٹرو اسٹیشن، غیر رہائشی عمارتوں اور ایک 25 منزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ حملے میں تین افراد زخمی ہوئے اور ایک طبی مرکز بھی متاثر ہوا۔جنوبی یوکرین کے شہر زاپوریژیا میں بھی روسی حملوں کے دوران ایک خاتون ہلاک اور کم از کم دو افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ سالہ بچی شامل تھی۔ زیلنسکی نے وولین کے علاقے میں رہائشی عمارتوں پر حملوں کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت اور 12 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔یوکرینی صدر کے مطابق، گزشتہ ہفتے روس نے یوکرین پر تقریباً 2,700 حملہ آور ڈرونز، 1,700 فضائی بم اور 66 میزائل داغے۔ ان کا کہنا تھا کہ میزائلوں کی بڑی تعداد بیلسٹک میزائلوں پر مشتمل تھی۔ یہ اعداد و شمار یوکرینی حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔
امریکا اور یوکرین کے درمیان سفارتی رابطے بحال
کشیدگی کے باوجود امریکا اور یوکرین کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ زیلنسکی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔انہوں نے اتوار کو امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بھی رابطہ کیا، جس میں سفارتی کوششوں اور مذاکرات کے اگلے مراحل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔تاہم، روسی تیل کی تنصیبات پر یوکرینی حملوں، ماسکو پر نئی پابندیوں اور جنگ بندی کی شرائط پر دونوں ممالک کے مؤقف میں اختلافات برقرار ہیں۔
جنگ کا اگلا مرحلہ اور عالمی خدشات
روس میں تیل کی تنصیبات، صنعتی مراکز اور ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جنگ کے دائرے اور شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کے شہروں اور توانائی کے نظام پر روسی حملوں کے باعث شہری آبادی، بجلی کی فراہمی اور بنیادی خدمات کو خطرات لاحق ہیں۔امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششوں کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس صورتِ حال میں توانائی تنصیبات پر حملوں کی روک تھام، شہریوں کا تحفظ اور امریکا کی سفارتی حکمتِ عملی جنگ کے آئندہ رخ کے لیے اہم عوامل بنے ہوئے ہیں۔