چوہنگ کی سول کورٹ میں ایک اہم کیس میں یہ سوال زیرِ بحث آیا کہ طلاق دینے یا لینے کی صورت میں میاں بیوی کے درمیان رقم کی ادائیگی کی شرط نکاح نامے میں لکھی جا سکتی ہے یا نہیں۔
درخواست گزار جنت بی بی نے اپنے سابق شوہر پرویز کے خلاف 25 لاکھ روپے کی ریکوری کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ عدالت میں جنت بی بی کا مؤقف تھا کہ نکاح کے وقت یہ شرط طے کی گئی تھی کہ اگر شوہر طلاق دے گا تو وہ 25 لاکھ روپے ادا کرے گا، اور اگر بیوی طلاق لے گی تو اسے بھی 25 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے رقم کی ریکوری کا دعویٰ دائر کیا۔سابق شوہر پرویز کے وکیل وسیم راجپوت نے لاہور ہائی کورٹ کے دو فیصلے پیش کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ نکاح نامے میں اس نوعیت کی شرط غیر قانونی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
پرویز نے عدالت میں کہا کہ یہ شرط بعد میں شامل کی گئی تھی اور وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ڈیوٹی جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد مقرر کر دی۔ماہرین کے مطابق یہ کیس نکاح نامے میں مالی شرائط کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اہم نظیر بن سکتا ہے اور آئندہ سماعت میں مزید قانونی نکات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔