اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس انعام امین منہاس کی سربراہی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے اور وکالت ناموں کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں موقف اپنایا کہ عمران خان کے خلاف 200 سے زائد مقدمات ہیں، لیکن اگر وکالت نامے نہیں ہوں گے تو مقدمات کی پیروی کیسے کی جائے گی۔عدالتی طلبی پر اڈیالہ جیل کا نمائندہ بھی عدالت میں پیش ہوا۔ دوران سماعت، وکیل شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی کال آئی تھی کہ پہلے وکالت نامے کے بارے میں علم نہیں تھا، تاہم اب وکالت نامے دستخط کروائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وکالت نامے دینے کے باوجود بار بار رابطہ کرنے کے باوجود انہیں واپس نہیں کیے گئے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے اڈیالہ جیل کے نمائندے سے استفسار کیا کہ وکالت نامے کب سے ان کے پاس پڑے ہیں، تو جیل نمائندہ نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی وکالت نامہ نہیں آیا۔عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ وہ وکالت نامے دستخط کروا کر کل تک عدالت میں واپس کریں۔ مزید برآں، جیل حکام کو رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے بعد عدالت نے درخواست پر مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔