جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے خلاف مواخذے کی تحریک منظور کر لی

جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے خلاف مواخذے کی تحریک منظور کر لی

جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے خلاف مواخذہ کی تحریک منظور کر لی ہے۔

 پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوران 192 ارکان نے مواخذے کی تحریک کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ کامیاب ہونے کے لیے 151 ووٹ درکار تھے۔ یہ تحریک اس وقت پیش کی گئی جب اپوزیشن نے الزام لگایا کہ ہان ڈک سو نے سابق صدر یون سک یول کے خلاف آئینی ججوں کی تقرری سے انکار کیا تھا۔جنوبی کوریا کے آئین کے مطابق، اگر قائم مقام صدر یا کسی اہم عہدے دار کے خلاف کوئی سنگین الزام لگایا جائے، تو ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے۔ اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ ہان ڈک سو نے ملک کی سیاست میں غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو بچانے کے لیے جان بوجھ کر آئینی ججوں کی تقرری روک دی تھی۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن نے سابق صدر یون سک یول پر مارشل لا لگانے اور خاتون اول کی مبینہ رشوت لینے کی تحقیقات کرنے کے لیے آزاد تحقیقاتی اداروں کے قیام کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

موافق ووٹ حاصل کرنے کے بعد، یہ تحریک پارلیمنٹ میں کامیاب ہوئی، تاہم ووٹنگ کے دوران حکومتی ارکان نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کیا۔ اپوزیشن نے اس مواخذہ تحریک کو ایک ایسی کارروائی کے طور پر دیکھا جو ملک کی سیاست میں شفافیت اور آئین کی بالادستی کے لیے ضروری تھی۔یہ تحریک اس بات کو سامنے لاتی ہے کہ جنوبی کوریا کی سیاست میں طاقتور عہدوں کے حوالے سے سیاسی کشمکش اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سے قبل بھی اپوزیشن نے صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی تحریکیں پیش کی تھیں، جن میں سے ایک کامیاب ہوئی تھی اور صدر یون کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔