جنوبی کوریا: اپوزیشن نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے مواخذے کا فیصلہ مؤخر کر دیا

جنوبی کوریا: اپوزیشن نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے مواخذے کا فیصلہ مؤخر کر دیا

سیول:جنوبی کوریا میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے مواخذے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔

مؤخر کرنے کا اعلان
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اپوزیشن جماعت کا کہنا ہے کہ وہ قائم مقام صدر کے مواخذے کے فیصلے کو اس ہفتے کے اختتام تک مؤخر کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے، اپوزیشن نے معزول صدر یون سک یول کے خلاف تحقیقات کے لیے دو خصوصی بل پر دستخط نہ کرنے پر قائم مقام صدر کے مواخذے کا اعلان کیا تھا۔

اپوزیشن کا موقف
جنوبی کوریا کے رکن قومی اسمبلی پارک چن ڈے نے کہا کہ،اپوزیشن نے عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا مقصد صرف حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہے اور عوام کے مفاد میں فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
مجاز بلز اور مطالبات
ڈیموکریٹک پارٹی نے کرسمس تک کی ڈیڈ لائن دی تھی تاکہ دونوں بلز کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ان بلز میں معزول صدر یون سک یول کے مارشل لاء اور ان کی اہلیہ پر بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ دو آزاد تحقیقاتی ادارے ان الزامات کی چھان بین کریں۔
قائم مقام صدر کا ردعمل
قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے کابینہ اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔انہوں نے ان بلز کے لیے دو طرفہ اتفاق رائے پر زور دیا۔اس پر اپوزیشن رہنما نے کہا کہ قائم مقام صدر کارروائیوں میں تاخیر کے ذریعے بغاوت جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے بعد مواخذے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔یہ فیصلہ جنوبی کوریا کی سیاسی کشیدگی اور پارلیمانی کارروائیوں میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتا ہے۔