افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف یکسو حکمت عملی اپنانا ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف یکسو حکمت عملی اپنانا ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف سخت پالیسی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ دو عملی پالیسی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں دہشت گردی کے خلاف پوری طرح سرگرم ہیں، اور حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات جیسے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا خاتمہ اور ایف سی کے جوانوں کی شہادت نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں کسی بھی قسم کی مصلحت سے کام نہیں لے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے، اور پاکستان اس کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے ہمیشہ تیار ہے، بشرطیکہ ٹی ٹی پی کے عناصر وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ کریں۔

 انہوں نے افغان حکومت سے واضح طور پر کہا کہ اگر ہم دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ٹی ٹی پی کو وہاں سے مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا اور ان عناصر کو پاکستان میں دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت کے لیے اہم ہے اور اگر افغان حکومت نے اس معاملے میں ٹھوس حکمت عملی اپنائی تو پاکستان اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم نے بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ان کی جمہوریت کے لیے قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے پارا چنار میں ادویات کی کمی کی شکایت کا نوٹس لیا اور وفاقی حکومت کی طرف سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات کی فراہمی کی اطلاع دی۔