پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو جنرل فیض حمید کی گرفتاری کی وجہ بتانی چاہیے، اور انہیں ہاؤسنگ سوسائٹی کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیض حمید نے ادارے کے اندر بغاوت کی کوشش کی تھی، جو ناکام ہوئی۔ جاوید لطیف نے کہا کہ اگر کسی اور ملک میں ایسی بغاوت کی سازش ہوتی تو اس کو فوری طور پر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا۔جاوید لطیف نے کہا کہ دباؤ میں کچھ کیا گیا تو قوم کھڑی ہو کر دکھائے گی، اور بغاوت کرنے والے کو چھوڑنے اور چھوٹے معاملات میں سزا دینے سے ریاستیں نہیں چلتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارکنوں کو سزا دینے اور ماسٹر مائنڈ کا کیس لٹکا دینے سے بات نہیں بنے گی۔ن لیگ کے رہنما نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان میں جب مارشل لاء لگتا ہے تو جمہوریت کی بات نہیں کی جاتی، اور ان کے مطابق اس وقت کسی کو انسانی حقوق یاد نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایران، لبنان، فلسطین اور لیبیا جیسے ممالک میں جو حالات ہیں، ان کی طرف عالمی طاقتوں کی نظریں ہیں، لیکن پاکستان کو کسی سے خیرات میں زندگی نہیں چاہیے، بلکہ وہ غیرت کی موت کو عزیز رکھتے ہیں۔جاوید لطیف نے واضح کیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور عالمی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈالروں کے بدلے کوئی بے غیرتی نہیں سکھا سکتا اور سول نافرمانی کو 9 اور 10 مئی کے واقعات سے بڑا جرم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج وہ عالمی قوتیں پاکستان کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہیں جو اس کے منظور نظر ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ آزادی اور غیرت کے مقابلے میں کوئی چیز عزیز نہیں، اور پاکستان کے لوگ سیاسی محاذ پر تقسیم ہو سکتے ہیں، لیکن قومی غیرت پر تقسیم نہیں ہوں گے۔