اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ پر سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کے الزامات، تحقیقات کا آغاز

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ پر سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کے الزامات، تحقیقات کا آغاز

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے میں سیاسی مخالفین اور گواہوں کو ہراساں کیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے سارہ نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ وزارت انصاف نے جمعرات کی رات ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سارہ نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات ٹیلی ویژن پروگرام میں چلنے والی ایک رپورٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی، جس میں سارہ نیتن یاہو کے واٹس ایپ پیغامات دکھائے گئے ہیں۔ ان پیغامات میں سارہ نے ایک سابق مشیر کو سیاسی مخالفین کے خلاف مظاہرے کرانے اور مقدمے کے اہم گواہ ہداس کلین کو ڈرا دھمکا کر اس کی گواہی تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کا کہا تھا۔

محکمہ انصاف کے بیان میں سارہ نیتن یاہو کا نام نہیں لیا گیا، تاہم ان کی اہلیہ کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سارہ نیتن یاہو نے ٹی وی پروگرام میں دکھائے جانے والے مواد کو جھوٹ قرار دیا ہے اور تحقیقات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔یہ تحقیقات اسرائیلی حکومت اور وزیراعظم کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وزیراعظم نیتن یاہو خود بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔