اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے اور ساحلی پٹی پر تین بندرگاہوں سمیت حوثیوں سے جڑے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس حملے کے دوران عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس بال بال بچ گئے۔
واقعہ کی تفصیلات:
حملہ اور ٹیڈروس ایڈہانوم کا کردار:
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے بتایا کہ ایئرپورٹ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک جہاز پر سوار ہونے والے تھے۔نتائج:حملے کے دوران ایئرپورٹ پر دو افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ٹیڈروس ایڈہانوم کے جہاز کے عملے کا ایک رکن زخمی ہوا۔
اسرائیل کا دعویٰ:
مقصد:
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے میں صنعا ایئرپورٹ کے ساتھ ساتھ ہزیز اور راس کناتب میں فوجی تنصیبات اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔
جانی نقصان:
اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے یا حوثی باغی۔
حوثی میڈیا کا ردعمل:
حملے کی تفصیلات:
حوثی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری میں پاور سٹیشنز اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
حوثی باغیوں کا ردعمل:
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اس بمباری کو "وحشیانہ" قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔
اسرائیل کا موقف:
اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں حوثیوں کے خلاف ایک اہم فوجی کارروائی قرار دیا۔