حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا عمران خان

افغانستان میں بمباری پر دکھ ہوا‘ بے گناہ جانیں ضائع گئیں ‘اس طرح کی کارروائی سے انتشار پھیلے گا ،پاکستان کا امن بھی اس سے متاثر ہوگا،دونوں ملکوں کا امن جڑا ہوا ہے
سب سیاسی قیدیوں کو رہا کریں، مجھے اگر جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں، ہائوس اریسٹ میں نہیں جائوں گا  بلکہ اپنے کیسوں کا سامنا کرکے خود کو بے قصور ثابت کروں گا: سابق وزیراعظم کی جیل میں گفتگو

راولپنڈی(آ ن لائن‘آئی این پی )بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اعتراف کیا ہے  حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا ہے۔راولپنڈی اڈیالہ جیل میں صحافی  نے سوال کیا  آپ تسلیم کررہے ہیں حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ہے،اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ معیشت اسٹیبلائز ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی‘انہوںنے کہا ہے  افغانستان میں ایئرفورس کی بمباری پر دکھ ہوا، اس طرح کی کارروائی سے انتشار پھیلے گا ،پاکستان کا امن بھی اس سے متاثر ہوگا،  بڑی دیر کے بعد افغانستان میں امن قائم ہوا ہے، افغانستان کا امن پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے،  مجھے بہت دکھ ہے کہ افغانستان میں بے گناہ جا نیں ضائع کی گئیں ،سب قیدیوں کو رہا کریں جیل میں رکھنا ہے تو مجھے رکھ لیں، میں ہاوس اریسٹ میں نہیں جاوں گا مقدمات کا سامنا کروں گا۔ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا    عمران خان نے واضح کیا ہے ملکی معیشت کا بڑا سہارا اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ جو پاکستانی ترسیلات زر بھیجتے ہیں ان کے ساتھ بھی زیادتی کی جا رہی ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے رشتہ داروں کے گھروں میں بھی ٹیلی فون کالز جا رہی ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم ان کی ملکیت ہے وہ پاکستان نہ بھیجنا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے تو صرف اوورسیز پاکستانیوں کو کال دی ہے اگر اوورسیز پاکستانی اپنی ترسیلات زر نہیں بھیجنا چاہیں گے تو اپنی مرضی سے نہیں بھیجنا چاہیں گے اور یہ پاکستانی ہی ہیں جو یہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ڈالر بھیجتے ہیں، عمران خان نے کہا ہے کہ جب ہماری مذاکراتی کمیٹی کے دو مطالبات پر سنجیدگی دکھائی جائے گی تب ہم ترسیلات زر روکنے کی کال واپس کریں گے۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ایک مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز پر نومئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کرائی جائیں، دوسرا مطالبہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ناجائز طور پر قید کیے گئے لوگوں کو فوری رہا کیا جائے۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ ملٹری ٹرائل میں لوگوں کو سزائیں اس لیے دی گئی کہ وہ نومئی کا اوپن ٹرائل کر ہی نہیں سکتے اس قسم کی ملٹری کورٹ سے سزائیں ملی ہے کہ آپ انہیں کھلے عام بتا نہیں سکتے، اگر انہوں نے ملٹری کورٹ میں کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی ہے تو وہ ہمیں بھی دکھا دیں، عوام کو بھی دکھا دیں اوپن کورٹ ٹرائل کریں، عمران خان نے کہا ہے کہ ان سب کو رہا کیا جائے پھر اگر آپ کو ان کا ٹرائل کرنا ہے تو جب جوڈیشل کمیشن بنے گا تو وہ خود ہی سی سی ٹی وی فوٹیج مانگ لے گا۔