ایران کمزور نہیں، دفاع ہمارا جائز حق ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

ایران کمزور نہیں، دفاع ہمارا جائز حق ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اپنے ملک کا دفاع کرنا ایران کا جائز حق ہے اور تہران نے اس حق کو استعمال کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایران کمزوری کی حالت میں نہیں بلکہ اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 40ویں انٹرنیشنل اسلامک یونیٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر جنگ مسلط کی، جبکہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایران نے جارحیت کا سامنا کرتے ہوئے مضبوط مزاحمت کے ذریعے اپنا دفاع کیا۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے معاملے میں کسی کمزوری کا شکار نہیں اور ملک کی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران کی جانب سے دفاعی اقدامات کو دوسرے اسلامی یا ہمسایہ ممالک کے خلاف دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ 

فلسطین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
مسعود پزشکیان نے فلسطین کے معاملے پر ایران کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا دفاع اور اس پر قبضے کو مسترد کرنا ایران اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔انہوں نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے۔ ایرانی صدر کی حالیہ گفتگو میں بھی مسلم ممالک کے درمیان زیادہ تعاون اور مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا گیا ہے۔ 

اسلامی ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کا احترام کریں
ایرانی صدر نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچانے کا عہد کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنے اختلافات اور سیکیورٹی مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنا چاہیے۔مسعود پزشکیان کے مطابق خطے کی سلامتی کی ذمہ داری خود اسلامی ممالک کو سنبھالنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے درمیان تعاون بڑھا کر خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ 

مذاکرات اور علاقائی کشیدگی
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور مذاکرات سے متعلق کوششیں جاری ہیں۔ پزشکیان اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران مذاکرات کو اپنی خودمختاری اور قانونی حقوق سے دستبرداری نہیں سمجھتا اور تہران اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔ایرانی حکام نے پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔ 25 اگست کو مسعود پزشکیان نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران بھی پاکستان کی تعمیری اور ثالثی کوششوں کی تعریف کی تھی۔ 40ویں انٹرنیشنل اسلامک یونیٹی کانفرنس کا آغاز 27 اگست کو تہران میں ہوا، جس میں اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور مذہبی علما شریک ہیں۔ کانفرنس میں اسلامی اتحاد، علاقائی سلامتی اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون سمیت اہم موضوعات زیر بحث ہیں۔