ایبٹ آباد میں پانچ سالہ طالبہ کو اسکول میں جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا

ایبٹ آباد میں پانچ سالہ طالبہ کو اسکول میں جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا

ایبٹ آباد: تھانہ بگنوتر پولیس نے نملی میرا میں واقع  اسکول پر کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے مالک اور پرنسپل کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق مالک و پرنسپل کو مزید پوچھ گچھ اور تفتیش کے لیے تھانہ بگنوتر منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اسکول میں ہونے والے واقعے سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔تفتیشی ٹیم نے واقعے سے متعلق اہم شواہد اکٹھے کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 5 سالہ طالبہ کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ معاملے کی تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔ذرائع کے مطابق متاثرہ طالبہ کا ڈی ایچ کیو اسپتال ایبٹ آباد میں گائناکالوجسٹ سے معائنہ کرایا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طبی معائنے کی رپورٹ تحقیقات میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔دوسری جانب واقعے کے بعد موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔

 ذرائع کے مطابق وہاں موجود افراد نے مقدمے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے والے مبینہ بااثر افراد کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔مقامی افراد اور متاثرہ خاندان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے میں اگر کوئی شخص ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور تحقیقات کو کسی قسم کے دباؤ سے متاثر نہ ہونے دیا جائے۔پولیس حکام کے مطابق اسکول کے مالک و پرنسپل سے تفتیش جاری ہے جبکہ 5 سالہ طالبہ کے دوبارہ طبی معائنے سمیت دیگر قانونی تقاضے بھی پورے کیے جارہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی مکمل نوعیت اور ذمہ داروں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔