الجیریا میں شدید گرمی کے دوران جنگلاتی آگ بے قابو، 12 افراد جاں بحق، 54 زخمی

الجیریا میں شدید گرمی کے دوران جنگلاتی آگ بے قابو، 12 افراد جاں بحق، 54 زخمی

الجزائر: الجیریا میں شدید گرمی کی لہر کے دوران شمال مشرقی علاقوں میں بھڑکنے والی جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق جبکہ 54 زخمی ہوگئے ہیں۔

الجیریا کے وزیر داخلہ سعید سیود کے مطابق آگ سے ہونے والی ہلاکتیں ملک کے تین صوبوں میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ صوبہ جیجل میں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ بجایا میں 4 اور تیزی وزو میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔حکام کے مطابق آگ کے پھیلاؤ کی صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ صرف ایک روز کے دوران ملک بھر میں 154 مقامات پر آتش زدگی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ متعدد مقامات پر فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

بجایا میں صورتحال انتہائی سنگین
صوبہ بجایا جنگلاتی آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں ایک ہی دن میں 36 مقامات پر آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حکام کے مطابق ان میں سے 18 مقامات پر آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم کئی علاقوں میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔آگ سے متاثرہ افراد میں سے 54 افراد جھلسنے اور زخمی ہونے کے باعث اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں 6 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ طبی عملہ زخمیوں کو ضروری طبی امداد فراہم کر رہا ہے جبکہ مزید متاثرین کی صورت میں ہسپتالوں میں انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

شہریوں کا انخلا
جنگلاتی آگ جب رہائشی علاقوں کے قریب پہنچی تو حکام نے متاثرہ علاقوں میں موجود شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا۔ شدید متاثرہ علاقوں سے درجنوں خاندانوں کو احتیاطی طور پر نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو آگ سے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے اور امدادی اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ بعض مقامات پر تیز ہواؤں کے باعث آگ کے شعلوں اور دھوئیں نے امدادی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا۔

شدید گرمی نے خطرہ بڑھا دیا
الجیریا اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ خشک موسم، کم نمی، تیز ہواؤں اور بلند درجہ حرارت نے جنگلاتی علاقوں میں آگ بھڑکنے اور تیزی سے پھیلنے کے خطرے میں اضافہ کردیا ہے۔ماہرین کے مطابق شمالی افریقہ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث شدید گرمی اور طویل خشک سالی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، جس سے جنگلاتی آگ کے لیے سازگار حالات پیدا ہوتے ہیں۔حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز، امدادی ٹیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کو متحرک کردیا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر آگ بجھانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے انخلا اور متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آگ سے ہونے والے مجموعی جانی و مالی نقصان کا حتمی اندازہ آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔