امریکا کی ریاست واشنگٹن کے مضافاتی علاقوں میں لگنے والی جنگلاتی آگ تیسرے روز بھی بے قابو ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 700 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 64 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے واشنگٹن کے علاقے اسپوکین میں بھڑکنے والی اس آگ کو امریکا کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ خشک سالی سے متاثرہ پیسیفک نارتھ ویسٹ میں کئی ہفتوں سے مختلف مقامات پر جنگلاتی آگ بھڑک رہی ہے، جس کے باعث وسیع علاقے میں فضائی آلودگی اور ہوا کے معیار میں شدید خرابی دیکھی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق شہر کے شمالی حصے میں ہفتے کے روز لگنے والی آگ اب تک 8 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔فائر زون سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں درختوں کی چوٹیوں سے اٹھتے دھوئیں کے میلوں بلند ستون دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ فائر فائٹنگ طیارے سرخ رنگ کے فائر ریٹارڈنٹ کیمیکل کا چھڑکاؤ کر کے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ریسکیو ادارے اور فائر فائٹرز مسلسل آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم موسم کی شدت اور خشک حالات کے باعث آگ پر مکمل قابو پانا بدستور ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔