نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 21 سالہ طالبہ اور ماڈل مسکان کو اس کے گھر میں چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا۔
پولیس نے واقعے میں مقتولہ کے جم ٹرینر کو مشتبہ ملزم قرار دیتے ہوئے اس کی تلاش شروع کردی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق افسوسناک واقعہ مغربی دہلی کے علاقے تلک نگر میں پیش آیا، جہاں مسکان اپنی رہائش گاہ کی دوسری منزل پر واقع فلیٹ میں اکیلی موجود تھی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور مبینہ طور پر گھر میں داخل ہوا اور مسکان پر چاقو سے متعدد وار کیے، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگیا۔مسکان کی چیخ و پکار سن کر پڑوسی فوری طور پر اس کے فلیٹ میں پہنچے تو وہ خون میں لت پت حالت میں پڑی تھی۔ پڑوسیوں نے فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کیا، تاہم شدید زخموں کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکی۔واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کرتے ہوئے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے تاکہ حملہ آور کی نقل و حرکت اور فرار ہونے کے راستے کا سراغ لگایا جاسکے۔
مقتولہ کے ایک دوست کے مطابق مسکان تین بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی اور تعلیم کے ساتھ ماڈلنگ بھی کرتی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد مسکان نے اپنے آخری لمحات میں اپنی بڑی بہن سے رابطہ کیا اور اسے فوری طور پر گھر پہنچنے اور اسپتال لے جانے کی درخواست کی تھی۔بھارتی میڈیا کے مطابق مسکان کی بہنوں نے پولیس کو بتایا کہ مقتولہ کا جم ٹرینر مبینہ طور پر اسے پہلے بھی ہراساں کرتا رہا تھا۔ اہل خانہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ماضی میں بھی مذکورہ شخص نے مسکان کو نقصان پہنچانے یا قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔انہی الزامات اور سابقہ واقعات کی بنیاد پر اہل خانہ نے تازہ حملے میں جم ٹرینر پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے واقعے کے محرکات اور ملزم کے خلاف الزامات کی مکمل تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ ملزم حملے کے بعد سے فرار ہے اور اسے گرفتار کرنے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں مقتولہ کے اہل خانہ، دوستوں اور پڑوسیوں سے بھی معلومات حاصل کر رہی ہیں تاکہ قتل کی اصل وجہ اور واقعے کے پس پردہ محرکات سامنے آسکیں۔حکام کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور دیگر تکنیکی معلومات کی مدد سے ملزم تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں۔