دریائے راوی میں اچانک پانی چھوڑنے پر بھارت کی جانب سے سیلابی خطرہ، عظمیٰ بخاری

دریائے راوی میں اچانک پانی چھوڑنے پر بھارت کی جانب سے سیلابی خطرہ، عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جنہیں جرمنی یا جاپان کی سرحد کا علم نہیں، ان کو مریم نواز کے دورہ جاپان سے تکلیف ہوئی۔

 ان کے ساتھ وزیر بلدیات ذیشان رفیق اور وزیر قانون صہیب بھرت بھی موجود تھے۔عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ دریائے راوی میں 38 سال بعد اتنا پانی آیا اور بھارت کی طرف سے اچانک پانی چھوڑنے کی وجہ سے پنجاب کے مختلف اضلاع میں آرمی طلب کر لی گئی۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں سیلاب کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جاپان کے دورے کے دوران بھی وزیراعلیٰ مریم نواز سیلاب کی اپ ڈیٹس لیتی رہیں اور جہاں سیلاب کی صورتحال تھی، اداروں نے لوگوں کو ریسکیو کیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ جاپان کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے زراعت اور دیگر شعبوں میں ایم او یوز سائن کیے اور جاپانی کمپنیوں کو پاکستان میں انویسٹمنٹ پر راضی کیا۔ عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ یہ دورہ پنجاب اور پاکستان کے لیے اہم تھا اور پی ٹی آئی صرف کارکردگی پر تنقید کر سکتی ہے۔

سیلاب سے قصور، وہاڑی، اوکاڑہ اور دیپالپور کے علاقے متاثر ہوئے، قصور میں 75 دیہات متاثر ہوئے، اور تمام متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ادویات کی کوئی قلت نہیں ہے، وزیراعلیٰ تنخواہ نہیں لیتی اور تمام اخراجات اپنی جیب سے کرتی ہیں۔وزیر قانون صہیب بھرت نے بتایا کہ جاپان کے دورے کی تیاری مکمل اور منصوبہ بندی کے مطابق کی گئی تھی، اور وہاں انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن کا دورہ بھی کیا گیا۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ ادارے سیلابی صورتحال میں کام کر رہے ہیں، اور جاپان میں پنجاب پروگرام کو سراہا گیا۔ جاپان میں واٹر ٹریٹمنٹ اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا وزٹ کیا گیا، اور پنجاب کے 13 شہروں میں اس پر کام شروع کیا جائے گا۔