خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے تعلیمی شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث متعدد اسکولوں کو جزوی اور مکمل نقصان پہنچا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل ترکئی نے بتایا کہ قدرتی آفت سے صوبے کے 21 اضلاع متاثر ہوئے ہیں، جہاں مجموعی طور پر 648 اسکول جزوی طور پر تباہ ہوئے جبکہ 34 اسکول مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے ہیں۔وزیر تعلیم کے مطابق اس افسوسناک صورتحال میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ سیلاب کے باعث 6 اساتذہ، جن میں 4 مرد اور 2 خواتین شامل ہیں، جاں بحق ہو گئے، جبکہ 11 طلبہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 3 طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔فیصل ترکئی نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ یکم ستمبر سے قبل متاثرہ اسکولوں کو فعال کر دیا جائے گا تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بحال ہو سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر و مرمت پر اربوں روپے کے اخراجات آئیں گے اور اس کام کو مکمل کرنے میں 6 سے 8 ماہ کا عرصہ لگے گا۔وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متاثرہ تعلیمی اداروں کو بحال کرے گی تاکہ مستقبل میں طلبہ کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ نہ آئے۔