ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور حادثات میں بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کے لیے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف ٹریفک پولیس کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر نے تمام سی ٹی اوز اور ڈی ٹی اوز کو ہدایت دی ہے کہ کم عمر ڈرائیورز کے خلاف بلا امتیاز اور سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق رواں ماہ کے دوران 18 سال سے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف 37 ہزار سے زائد چالان ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔ صرف لاہور میں ہی 13 ہزار 800 سے زائد کم عمر ڈرائیورز کو قانون کی گرفت میں لایا گیا، جبکہ 9 ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں بھی بند کی گئیں۔ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر کا کہنا ہے کہ کم عمر ڈرائیورز کو 2000 روپے جرمانہ اور گاڑی بند کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک حادثات میں کم عمر ڈرائیورز کی بڑی تعداد شامل ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ "نوجوان نسل ہمارا روشن مستقبل ہے، ان کا مستقبل اپنی غفلت یا والدین کی لاپرواہی کی وجہ سے تاریک نہ بنائیں،" ان کے الفاظ تھے۔ترجمان کے مطابق والدین کو بھی اس معاملے میں ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور کم عمر ڈرائیورز کی رہائی کے لیے والدین سے بیان حلفی لیا جا رہا ہے تاکہ وہ آئندہ اپنے بچوں کو بغیر لائسنس یا کم عمری میں گاڑی نہ چلانے دیں۔