ووٹ کاتقدس اور طاقت کافریب

سمیع اللہ ملک (ٓخری قسط)
نظرثانی کے اس عمل کے تحت کروڑوں ووٹروں سے شہریت کی تصدیق کیلئے پاسپورٹ،برتھ سرٹیفیکیٹ اوررہائشی سرٹیفیکیٹ جیسی دستاویزات طلب کی گئیں۔اوراپوزیشن کاخدشہ ہے کہ کروڑوں غریب اورناخواندہ شہری یہ دستاویزات فراہم نہیں کرپائیں گے،اوراس طرح ان کے ووٹوں کوبلاجوازخارج کیا جاسکتاہے۔
معاملہ اس وقت سنگین ہواجب بہارمیں انتخابات سے محض تین ماہ قبل’’اسپیشل انٹینسیوریویژن‘‘کاعمل شروع کیاگیااورعام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ کے مطابق یہ شفافیت نہیں بلکہ سیاسی صفایاتھا۔کمیشن کاکہناہے کہ یہ سب قانونی اورشفاف تھا،لیکن اپوزیشن کے مطابق یہ حکمتِ عملی ایک خاص ووٹ بینک کوکمزورکرنے کیلئے اپنائی گئی۔اسدالدین اویسی(مجلس اتحادالمسلمین)نے مسلمانوں،دلتوں اورپسماندہ طبقے سے اپیل کی کہ وہ اپنی پاسپورٹ،پیدائش کاسرٹیفیکیٹ،ذات کاسرٹیفیکیٹ اوردیگر11دستاویزات تیاررکھیں،وگرنہ ان کی شہریت خطرے میں پڑسکتی ہے اوروہ ووٹ کے حق سے محروم ہوجائیں گے۔گویایہاں فکری استعارہ قابل ذکرہے کہ ایک ووٹرکی آوازدبائی گئی،تویہ نہ صرف ایک فردکاحق ضائع ہوابلکہ’’ جمہوریت کاکل چراغ مدھم ہوا‘‘۔حکومت نے اسے محض شفافیت کی کوشش قراردیا،مگرعوامی سطح پریہ خوف بڑھتاجارہاہے کہ کہیں یہ عمل شہری حقوق پرقدغن نہ بن جائے۔
اورجب بات کہوتوانصاف سے کہو،خواہ وہ رشتہ دارہی کیوں نہ ہو۔ (انعام:۱۵۲)
تاریخی اورعالمی تناظرکااگرمطالعہ کریں تودنیاکے کئی ممالک میں انتخابی دھاندلی کے واقعات نے جمہوریت کی بنیادوں کوہلاکررکھ دیاہے۔امریکامیں2000کے صدارتی انتخابات میں فلوریڈاکی ووٹرلسٹوں کی جانچ پڑتال میں شدیداختلافات سامنے آئے،اورافریقاکے کئی ممالک میں ووٹررجسٹریشن میں شفافیت کی کمی نے مقامی اوربین الاقوامی مبصرین کی توجہ مبذول کرائی۔ہندوستان میں بھی یہی تصویراب نظرآرہی ہے،جہاں کروڑوں ووٹروں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل میں عدم توازن نے عوامی شکایات کو ہوادی ہے۔ایسی ہی شکایات پاکستان میں بھی سنائی دیتی ہیں۔
یہ عالمی منظرنامہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ جمہوریت کے ستون صرف قوانین سے قائم نہیں رہتے، بلکہ ان پرعوامی اعتماداورشفاف عمل کی بنیادبھی اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے۔اگریہ
ستون ڈگمگاجائیں تونہ صرف انتخابات بلکہ پوراسماجی اورسیاسی ڈھانچہ متاثر ہوتاہے۔ہندوستانی آئین کی دفعہ324الیکشن کمیشن کووسیع اختیارات دیتی ہے تاکہ وہ انتخابات کو شفاف اورغیرجانبدارانہ بناسکے۔تاہم، جب ووٹرلسٹوں میں بڑے پیمانے پرترامیم کی جاتی ہیں،تویہ سوال پیداہوتاہے کہ کیایہ عمل آئینی حدودمیں ہے یانہیں۔ایس آئی آرکاعمل اگرچہ قانونی طورپرجائزہے،لیکن اس کے نفاذکے طریقے پرشفافیت کی کمی نے انتخابی عمل پرسوالیہ نشان کھڑاکردیاہے۔
انصاف اورشفافیت کی ضمانت دینے والا ادارہ،اگرخودعوامی شکوک کامرکزبن جائے،تواس سے جمہوریت کے بنیادی اصول خطرے میں پڑجاتے ہیں۔یہی وہ اہم نقطہ ہے کہ ہر ادارے کااخلاقی اورعملی وزن اس کی قانونی حیثیت کے برابراہم ہے۔یہ مسئلہ صرف اعداد وشماریاقانونی چالاکی کانہیں،بلکہ اس کے سماجی اورنفسیاتی اثرات بھی بے حدگہرے ہیں ۔کروڑوں افرادجو دستاویزات کی کمی یاپیچیدگی کے باعث ووٹ دینے سے محروم ہوجائیں،وہ نہ صرف اپنے جمہوری حق سے محروم ہوں گے بلکہ ان کے سماجی اعتماد میں بھی کمی آئے گی۔اقلیتیں،پسماندہ طبقہ اورناخواندہ شہری خاص طورپراس دباکاشکارہوں گے،اوران کامحسوس شدہ جمہوری نقصان طویل مدت تک سیاسی عدم اعتمادمیں تبدیل ہوسکتاہے۔
یہاں ہمیں  اسلامی اورسیاسی  بصیرت یاددلاتی ہے کہ ہرفردکی عدل وانصاف کی ضمانت دیناریاست کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اگرکسی ایک گروہ کی رائے یاحق پرظلم ہوجائے توپوری قوم کی جمہوری صحت متاثر ہوتی ہے۔یہ دھاندلی صرف سیاسی کھیل نہیں بلکہ سماجی انصاف کی پامالی ہے۔حق کی پامالی ہرشخص کے دل میں خوف اورمایوسی کابیج بوتی ہے،جوپوری قوم کے مستقبل کیلئیخطرہ ہے۔اپوزیشن کے خدشات کی روشنی میں،کروڑوں ناخواندہ شہری اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوسکتے ہیں۔یہ امرقرآنی تعلیمات کی روشنی میں بھی قابل غور ہے:اورانصاف کے ساتھ میزان قائم کرواورمیزان میں کمی نہ کرو۔(الرحمن: 9)
انڈین سیاست میں یہ دھاندلی کسی نئی بات کی نمائندگی نہیں کرتی،بلکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدارکے حصول کیلئے ہمیشہ فریب اورجعل سازی کے وسائل استعمال کیے گئے ہیں۔ تاریخی اورادبی نقطہ نظرکے مطابق جہاں عدل کی کرنیں مدھم ہوں، وہاں طاقت کی آندھی ہرحقیقت کومٹادیتی ہے۔یہی صورت حال آج بھی دہرائی گئی ہے،جب ووٹرلسٹوں میں غیرحقیقی نام شامل کرکے انتخابات کو مشکوک بنایاجارہاہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق،نظرثانی عمل کامقصدصرف ووٹرلسٹوں کی شفافیت ہے۔تاہم،اپوزیشن کے مطابق اس عمل میں انتخابی فوائد کیلئے جان بوجھ کرنام حذف کیے گئے ہیں۔اس مسئلے پرانتخابی دھاندلی کے قانونی پہلوکے مطابق عوام میں شدیدعدم اعتمادپیداہوا ہے، اورسیاسی مباحث میں ہرطرف تنقیدکی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
یہ تمام حقائق اورالزامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جمہوریت کی بنیادعوامی اعتماد پرقائم ہے،اورجب یہ اعتمادٹوٹتاہے توریاست کے ہرشعبے میں بحران پیداہوتاہے۔ یاد رہے کہ جمہوریت کااصل مال عوام کی رائے ہے،اورجب یہ مال چھیناجائے،توریاست کا تمام سرمایہ بے کارہوجاتاہے۔قرآنی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں:
اے ایمان والو!انصاف کے ساتھ قائم رہواوراللہ کیلئے گواہی دو،خواہ وہ تمہارے اپنے نفس،والدین یارشتہ داروں پرہی کیوں نہ ہو۔ (النساء:۱۳۵)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انصاف کامعیارکبھی ذاتی مفادات پرمنحصرنہیں ہوسکتا۔
یہ داستان صرف ایک انتخابی تنازع کی رودادنہیں،یہ اس آئین کی روح کاامتحان ہے جس پرایک ارب سے زائدانسانوں کی امیدوں کا چراغ جل رہاہے۔ووٹ کی پرچی جو بظاہر ایک معمولی کاغذ ہے دراصل وہ میزان ہے جس میں اقتدارکے دعوے اورعوام کی امانت کوتولاجاتاہے۔اگراس میزان کاپلڑاپہلے ہی جھکادیاجائے توباقی رہ جانے والاکھیل محض’’جمہوریت کاتماشہ‘‘ہے۔
آج ہندوستانی سیاست ایک ایسے موڑپرہے جہاں سچ اورجھوٹ کی لکیردھندلادی گئی ہے،اورطاقتورہاتھ اس دھندکوگہراکرنے میں مصروف ہیں۔اپوزیشن کے نعرے ہوں یا حکومت کی وضاحتیں،اصل سوال وہی ہے جوہرباشعورشہری کے دل میں گونج رہاہے ’’کیا میراووٹ میرے اپنے ہاتھ میں ہے یاکسی اورکی جیب میں؟ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جب امانت ضائع ہوتی ہے تو ’’قومیں صرف اپنے حقوق نہیں کھوتیں،بلکہ اپنی تاریخ کاوہ باب بھی کھودیتی ہیں جوعزت اوروقارسے لکھاجاسکتاتھا‘‘۔
 اورگواہی کومت چھپا،اورجواسے چھپائے گاتواس کادل گنہگارہے۔(البقرہ:۲۸۳)
قومیں بندوق کے سائے میں نہیں،انصاف کے سائے میں پروان چڑھتی ہیں۔اگرآج ہم نے ووٹ کے تقدس کی حفاظت نہ کی توآنے والے کل میں ہمارے بچوں کے نصاب میں’’جمہوریت‘‘صرف ایک مردہ لفظ رہ جائے گا۔یہ وہ لمحہ ہے جب ہر شہری کویہ طے کرناہے کہ وہ خاموش تماشائی رہے گایاتاریخی صفحے پراپنانام اس فہرست میں لکھوائے گاجو جمہوریت کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ کیونکہ اگرہم نے آج یہ جنگ ہاردی،توآنے والاکل ہم سے سوال کرے گااورہم اس سوال کاجواب دینے کے بھی اہل نہیں رہیں گے۔
انڈین جمہوریت بھی اس وقت ایک نازک موڑ پرکھڑی ہے۔ووٹر لسٹ میں شفافیت کی کمی،غیرضروری دستاویزی پیچیدگی،اورسیاسی مقاصدکیلئے انتخابی عمل میں دخل اندازی،سب مل کراس کی بنیادوں کوہلارہے ہیں۔یہ محض سیاسی دائرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری امتحان ہے۔جمہوریت کی حفاظت صرف قانون اوراداروں سے نہیں بلکہ عوامی شعور، عدل، اورشفاف عمل سے ممکن ہے۔اگرہم آج ان چیلنجزکامؤثراوربروقت مقابلہ نہ کریں،توکل کی نسلیں ہمیں نہ صرف تاریخ میں قصوروارپائیں گی بلکہ جمہوریت کے روشن خواب بھی مدھم پڑجائیں گے۔اس لیے یہ وقت ہے کہ ہم انصاف،شفافیت اورعوامی اعتمادکوجمہوری عمل کی بنیادبنائیں اورہر شہری کوحقِ رائے دہی کی مکمل آزادی فراہم کریں،تاکہ ملک کی سیاست ایک روشن،اخلاقی اورفکری سمت میں آگے بڑھ سکے۔
ان تمام حقائق،الزامات اورتجزیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ انڈین انتخابات کامنظرنامہ ایک نہایت پیچیدہ اورمتنازعہ صورت اختیارکرچکاہے۔اپوزیشن کے خدشات، عوامی عدم اعتماد،اورووٹرلسٹوں میں ممکنہ دھاندلی کاسایہ جمہوری اداروں پرگہراپڑا ہے۔یہ ایک ایسالمحہ ہے جب تاریخ کے صفحات پرلکھاجائے گاکہ جب عوام کی رائے کااحترام نہ کیاگیا،توانصاف کی روح تک زخمی ہوئی۔ہرمقتدرقوت کویہ یادرکھناچاہئے کہ انصاف اورشفافیت کے بغیرریاست کے ستون ٹوٹ جاتے ہیں،اورہردھاندلی ایک قومی زخم بن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں نہ صرف سیاسی دھاندلی کے خلاف آوازبلندکرنی چاہیے بلکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو مضبوط کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔