رفیع صحرائی
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو ایسا سیاسی جھٹکا دیا ہے جس کے اثرات صرف امریکی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور مستقبل کے عالمی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرکے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ یہ محض دو سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی مقابلے کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی عوام کی جانب سے حکومتی پالیسیوں، جنگی فیصلوں اور معاشی ترجیحات پر دیا جانے والا ایک واضح فیصلہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت ہمیشہ سے خودپسندی اور نرگسیت کا مظہر رہی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ اگر انتخابی بیلٹ پیپر پر ان کی تصویر موجود ہوتی تو ریپبلکن امیدوار کامیاب ہو جاتے، ان کی خودپسندی کی انتہا ہے۔ گویا ان کے نزدیک جماعت، امیدواروں کی صلاحیت اور حکومتی کارکردگی سے زیادہ اہمیت ان کی اپنی ذات کی ہے۔ تاہم ان کا انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کرنے کا اقدام خوش آئند ہے۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ اقتدار میں موجود جماعت عوام کے فیصلے کو خندہ پیشانی سے قبول کرے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر جمہوری نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔
ان انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجوہات میں ایران کے ساتھ جنگ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایران جنگ نے ان کی جماعت کے انتخابی نتائج کو متاثر کیا۔ اگرچہ انہوں نے جنگی فیصلے پر پشیمانی ظاہر نہیں کی اور کہا کہ وہ دوبارہ بھی یہی فیصلہ کرتے، لیکن اس اعتراف سے یہ حقیقت ضرور سامنے آگئی کہ جنگ کی سیاسی قیمت حکمران جماعت کو ادا کرنا پڑی ہے۔
ٹرمپ اقتدار میں آئے تو ان کا نعرہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے، معیشت کو مضبوط کرنے اور امریکی عوام کے مفادات کو مقدم رکھنے کا تھا۔ مگر ایران کے ساتھ طویل جنگ نے ان دعوؤں کو شدید آزمائش سے دوچار کر دیا۔ جنگیں صرف میزائلوں، بموں اور فوجی بجٹ تک محدود نہیں ہوتیں۔ ان کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی ترسیل، توانائی کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ تک پہنچتے ہیں۔ ایران جنگ کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی شہریوں کے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا۔ امریکی عوام نے محسوس کیا کہ عالمی طاقت بننے کی خواہش اور جنگی مہم جوئی کی قیمت بالآخر انہیں اپنے جیب سے ادا کرنا پڑ رہی ہے اور اگر وہ صدر ٹرمپ کو ایک مرتبہ پھر مینڈیٹ دیتے ہیں یہ بدامنی اور معاشی تباہی کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھنے کے مترادف ہو گا۔ گویا جنگی حکمت عملی معاشی مشکلات میں تبدیل ہوئی تو عوام نے ووٹ کی طاقت سے اپنا ردعمل ظاہر کر دیا۔
ان نتائج کا ایک اہم پہلو مشی گن سے ڈیموکریٹک امیدوار ڈاکٹر عبدالرحمن السید کی کامیابی بھی ہے، جنہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ میں پہلے مسلمان رکن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی امریکی معاشرے میں مذہبی تنوع اور سیاسی شمولیت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کے مذہبی اور سیاسی نظریات کو موضوعِ تنقید بنایا گیا، لیکن امریکی ووٹرز نے ان کے حق میں فیصلہ دے کر یہ پیغام دیا کہ جمہوریت میں کسی امیدوار کی مذہبی شناخت اس کی صلاحیتوں اور عوامی حمایت پر حتمی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کامیابی امریکی مسلمانوں اور تارکین وطن کے لیے بھی یقیناً حوصلہ افزا ہے۔
امریکی انتخابات کا ایک دوسرا اہم پہلو فلسطین اور غزہ کے حوالے سے عوامی جذبات اور اسرائیل کے بارے میں بدلتی ہوئی رائے عامہ ہے۔ غزہ میں طویل عرصے سے جاری تباہی، بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی بحران نے دنیا بھر میں احتجاج اور تشویش کی لہر پیدا کی ہے۔ امریکہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہا۔ وہاں نوجوانوں، طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف مذہبی و سماجی حلقوں میں اسرائیلی جنگی کارروائیوں اور امریکی فوجی و مالی امداد پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انتخابی مہم میں بھی فلسطین اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی زیر بحث رہی۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کا واحد سبب فلسطین کا مسئلہ ہے۔ اس میں مہنگائی، ایران جنگ، روزگار اور جمہوری اقدار سمیت متعدد عوامل شامل ہیں۔ البتہ یہ ضرور واضح ہوا ہے کہ امریکی سیاست میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اب پہلے کی طرح اختلاف سے بالاتر معاملہ نہیں رہی۔
یہاں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکی خارجہ پالیسی صرف صدر یا ایک سیاسی جماعت کے بدلنے سے مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوتی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ماضی کے بعض فیصلے بھی اسرائیل کے لیے حمایت کی مثالیں رکھتے ہیں۔ اس لیے نئی کانگریس سے غیر معمولی توقعات وابستہ کرنے کے بجائے اس کے عملی اقدامات کا انتظار کرنا چاہیے۔ تاہم منتخب نمائندوں پر عوامی دباؤ بڑھنے سے فلسطین کے مسئلے پر زیادہ متوازن اور انسانی بنیادوں پر مبنی پالیسی کی گنجائش ضرور پیدا ہو سکتی ہے۔
ان انتخابات کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ عوام جنگ سے زیادہ امن، نعروں سے زیادہ معاشی آسودگی اور طاقت کے مظاہروں سے زیادہ اپنے مستقبل کا تحفظ چاہتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی اصل عظمت اس کے ہتھیاروں، فوجی طاقت یا عالمی دھونس میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے معیارِ زندگی، معاشی استحکام اور انسانی حقوق کے احترام میں ہوتی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ نے نہ صرف امریکی معیشت پر دباؤ ڈالا بلکہ عالمی امن کو بھی خطرات سے دوچار کیا۔ اگر نئی کانگریس جنگ کے خاتمے، سفارتی مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرتی ہے تو یہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوام نے اسے محض ٹرمپ کی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ بہتر متبادل کی امید پر ووٹ دیا ہے۔ اب اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع، عوامی فلاح اور جنگی پالیسیوں پر مؤثر نگرانی کے لیے عملی اقدامات کرے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مخالف جماعت کی اکثریت محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ عوامی اعتماد میں کمی کا اظہار ہے۔ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت ہی ان کے لیے بہتر راستہ ہے۔
امریکی انتخابات کا نتیجہ دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ عوام کو نظرانداز کرکے، جنگوں کو طول دے کر اور معاشی مشکلات سے آنکھیں چرا کر اقتدار کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ عوام کا ووٹ حکمرانوں کے لیے اعتماد کا پروانہ بھی ہے اور ان کی کارکردگی کا احتساب بھی۔ اگر اس انتخابی فیصلے سے ایران جنگ کے خاتمے، فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے انصاف اور عالمی سطح پر امن کی کوششوں کو تقویت ملتی ہے تو اسے بجا طور پر امن کی جیت قرار دیا جا سکے گا۔ دنیا کو جنگوں کے فاتحین نہیں، امن کے معمار درکار ہیں۔