ووٹ اور لاٹھی

سردار حیدر احمد علی          
جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت بیلٹ باکس نہیں بلکہ Public Trust ہے۔ جہاں اعتماد مر جائے، وہاں ووٹ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا رہ جاتا ہے اور انتخاب ایک سرکاری کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔آزاد جموں و کشمیر  کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر پاکستان کی سیاست کے پرانے زخم تازہ کر دیے۔ میرپور ڈویڑن کی 13 نشستوں پر ہونے والے پہلے مرحلے کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔لیکن انتخابی نتائج سے زیادہ توجہ اس بات نے حاصل کی کہ پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں، ایک سیاسی کارکن کے جاں بحق ہونے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات آئیں، جبکہ مختلف جماعتوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے۔یہ پہلا موقع نہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی بڑا انتخاب ایسا گزرا ہو جس کے بعد ہارنے والوں نے دھاندلی کا الزام نہ لگایا ہو اور جیتنے والوں نے ہر اعتراض کو سیاسی بیانیہ قرار نہ دیا ہو۔ مسئلہ صرف Election Result کا نہیں بلکہ Electoral Credibility کا ہے۔اگر ہر الیکشن کے بعد عوام یہی سوال کریں کہ ‘‘کیا میرا ووٹ واقعی گنا گیا؟’’ تو پھر جیتنے والی جماعت بھی مکمل فاتح نہیں ہوتی۔ جمہوریت صرف اکثریت کا نام نہیں، بلکہ اقلیت کے اعتماد کا بھی نام ہے۔تشدد کسی بھی انتخاب کی سب سے بڑی شکست ہے۔ جب بیلٹ بکس کے ساتھ ایمبولینسیں بھی چلنے لگیں، جب پولنگ اسٹیشن کے باہر نعرے دلیل کی جگہ لے لیں اور جب سیاسی اختلاف دشمنی میں بدل جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ Democracy اپنی روح کھو رہی ہے۔سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتی ہیں، مگر شاید ہی کبھی اپنے سیاسی رویوں کا احتساب کرتی ہوں۔ اقتدار میں ہوں تو ادارے آزاد اور شفاف دکھائی دیتے ہیں، اپوزیشن میں آئیں تو وہی ادارے متنازع قرار پاتے ہیں۔ اگر اصول صرف حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ بدلتے رہیں تو پھر سیاست نظریات نہیں بلکہ مفادات کا کاروبار بن جاتی ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابات صرف 13 نشستوں کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک امتحان ہے کہ کیا ہمارے ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ ہر شکایت کی شفاف تحقیقات کر سکیں، اور کیا ہماری سیاسی قیادت اتنی بالغ ہے کہ کارکنوں کو قانون کی حدود میں رہنے کی تلقین کرے۔جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن کوئی مخالف جماعت نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جو Power کو Principles پر ترجیح دیتی ہے۔ جس دن سیاست دان اپنی فتح سے زیادہ نظام کی ساکھ کو اہمیت دیں گے، اس دن شاید نتائج پر اختلاف رہے، مگر نظام پر اعتماد قائم رہے گا۔آخرکار، انتخابات نشستوں سے نہیں، اعتماد سے جیتے جاتے ہیں۔ اگر Trust Deficit بڑھتا رہا تو بیلٹ بکس بھر جائیں گے، مگر جمہوریت خالی ہوتی جائے گی۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صرف آزاد کشمیر نہیں بلکہ پورا پاکستان تلاش کر رہا ہے