امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب برقی گاڑیوں کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آسٹریلیا کے سڈنی میں استعمال شدہ برقی گاڑیوں کے تاجر بتاتے ہیں کہ پہلے جہاں دو ماہ میں ایک گاڑی فروخت ہوتی تھی، اب ہر دو ہفتے میں ایک گاڑی فروخت ہو رہی ہے، اور قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔چین میں مارچ کے دوران برقی گاڑیوں کی فروخت میں 82.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امریکا میں گزشتہ ماہ 82,000 برقی گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو سالانہ بنیاد پر کم ہیں مگر فروری کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔رپورٹس کے مطابق، ویتنام میں مقامی کمپنی ون فاسٹ کی برقی گاڑیوں کی فروخت میں 127 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جاپان میں ای وی گاڑیوں کی فروخت تقریباً 3 گنا اور جنوبی کوریا میں 172 فیصد بڑھ گئی ہے۔ یورپ اور فرانس میں ٹیسلا کی نئی رجسٹریشنز میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ناروے، سویڈن اور ڈنمارک میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آسٹریلیا میں مارچ کے دوران برقی گاڑیوں کا حصہ کُل گاڑیوں کی فروخت میں 14.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں، تو صارفین زیادہ تعداد میں برقی گاڑیاں خریدیں گے۔ادھر، آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز نے برقی چارجنگ اسٹیشنز کے لیے 71 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔