پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں شدید بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہے گا، جن میں سے تقریباً 93 لاکھ افراد بحران کی سطح پر ہیں اور 17 لاکھ افراد ہنگامی حالت میں ہیں۔ یہ درجہ بندی قحط کے بعد سب سے زیادہ خطرناک سطح کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غذائی بحران کی اصل وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید موسمی حالات شامل ہیں۔ خاص طور پر، شدید بارشیں اور سیلاب نے فصلوں کو تباہ کیا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جس کی وجہ سے زرعی پیداوار اور روزگار کے مواقع متاثر ہوئے ہیں۔ سال 2025 میں متوقع شدید مون سون بارشیں اور اچانک سیلاب کے باعث ساٹھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ تاہم، یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حالیہ مکمل اعداد و شمار دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بعض معاملات میں شدت کی سطح کو مکمل طور پر واضح نہیں کیا جا سکا۔
مزید برآں، پاکستان کو غذائی قلت کے خطرے والے ممالک میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہات میں صحت کے شعبے تک محدود رسائی، صاف پانی اور صفائی کے مسائل، بیماریوں کا پھیلاؤ اور غذائیت کی کمی شامل ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث، 2026 تک یہ شرح تقریباً 6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو اس بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے تجزیاتی دائرہ کار کو 2024 کے مقابلے میں 2025 میں بڑھا کر 68 اضلاع کر دیا گیا ہے، جن میں سے 46 فیصد سے زائد آبادی اس بحران سے متاثر ہے۔ اس کے نتیجے میں، متاثرہ افراد کی تعداد 1 کروڑ 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور اس سنگین بحران سے نمٹا جا سکے۔ اس کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ، فصلوں کی بحالی، صحت کی سہولیات میں بہتری اور اقتصادی اقدامات ناگزیر ہیں۔