چودھری فرحان شوکت ہنجرا
ریلوے کا منشور رفتار،خدمت،حفاظت پر مبنی ہے لیکن عوام الناس کے طبقات عام مسافروں اور گڈز ٹرانسپورٹرز کیلئے ریل کا سفر غیر محفوظ، بن چکا ہے آئے روز ریلوے ٹریک پر مسافر اور گڈز ٹرینیں ریل ہو رہی ہیں اور مسافر اور گڈز کوچز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس سے ریلوے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے پاکستان ریلویز کے لاہور نارووال سیالکوٹ وزیر آباد سیکشن پر چلنے والی ٹرینوں میں لاہور ڈویڑن کی عوام دشمن پالیسیوں سے اس سیکشن پر سفر کرنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ وفاقی وزیر ریلوے سے لے کر ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ لاہور اور ان کی ٹیم نے مسافروں کو ذلیل ورسوا کرکے رکھ دیا ہے نارووال سیالکوٹ سیکشن پر ہر ٹرین میں 10 مسافر بوگیاں لگانے کا عمل کئی روز سے متاثر ہے عوام کم بوگیوں کی وجہ سے اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر ٹرین کی چھتوں حتیٰ کہ ریلوے انجن پر بیٹھ کر سفر کر رہے ہیں مسافروں کا کہنا ہے کہ خدانخواستہ نارووال سیالکوٹ سیکشن پر تو کوئی ٹرین حادثہ پیش نہیں آیا اور ریلوے انتظامیہ نے فیض احمد فیض،نارووال پسنجر،سیالکوٹ ایکسپریس اور لاثانی ایکسپریس ٹرینوں کی بوگیوں میں کمی کر دی ہے جبکہ دوسری جانب ریلوے حکام مسافر ٹرینوں میں کوچز کی کمی کا کہ رہے ہیں۔تو ریلوے انتظامیہ عوام کے اس سوال کا جواب دینے سے عاجز نظر آتے ہیں کہ نارووال سیالکوٹ سیکشن کی ٹرینوں سے کوچز دوسرے سیکشن کی ٹرینوں میں کیوں لگائی جا رہی ہیں ہمیں ہماری سیکشن پر چلنے والی ٹرینوں میں بوگیوں کو لگانے کیلئے واپس کیا جائے تاکہ عوام عزت و احترام سے سفر کر سکیں نارووال سیالکوٹ سیکشن پر لاہور ڈویڑن کی جانب سے اس وقت مس مینجمنٹ کی یہ صورتحال ہے کہ لاہور سے نارووال جانے والی نارووال پسنجر جس کا روانگی کا وقت صبح 7:15 ہے لاہور ریلوے اسٹیشن سے اس ٹرین پر سوار ہونے والے مسافر اور بادامی باغ اور شاہدرہ باغ جنکشن ریلوے اسٹیشن پر مسافروں نے اس ٹرین پر جانے کیلئے ٹکٹس خرید رکھے ہوتے ہیں اس ٹرین کی صورتحال یہ ہے کہ نارووال سے لاہور آنے والی ٹرین فیض احمد فیض لاہور صبح 8 بجے پہنچتی ہے وہ ٹرین کی بوگیاں واشنگ لائن جاتی ہے وہاں سے آکر یہ ٹرین آجکل صبح 10 بجے کے بعد لاہور سے چلتی ہے بلکہ دو روز قبل یہ ٹرین 11 بجے کے بعد لاہور سے نارووال کیلئے روانہ ہوئی تھی اب بتائیں جو مسافر لاہور ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے ہونگے اور جو بادامی باغ اور شاہدرہ میں موجود ہونگے ان کا کیا پرسان حال ہوگا جس ٹرین کا نارووال پہنچنے کا وقت صبح 10 بجے ہے وہ لاہور ہی سے 3 گھنٹے لیٹ روانہ ہو رہی ہے لیکن ریلوے انتظامیہ کے کانوں تک جوں نہیں رینگی اور وہ اپنے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر انجوائے کر رہے ہیں عوام جائیں بھاڑ میں دوسرا نارووال پسنجر 212 ڈاؤن کا لاہور پہنچنے کا وقت 8 بجے رات ہے جبکہ فیض احمد فیض ٹرین 209 اپ کا لاہور سے روانگی کا وقت 7:30 بجے رات ہے اب نارووال پسنجر کی بوگیوں کو اتار کر فیض احمد فیض ٹرین سے لگایا جاتا ہے اور یہ ٹرین اب رات 10 بجے روانہ ہوتی ہے یہ آخری ٹرین ہے جس کا نارووال پہنچنے کا وقت رات 10 بجے ہے اب یہ ٹرین رات 12 بجے پہنچ رہی ہے ریلوے حکام بتائیں کیا حال ہوگا لوگوں کا کیا سوئیں اور رات کے آخری پہر گھر جو پہنچتے ہیں وہ ان مسافروں کو ہی معلوم ہے یہ انسان حقوق کی سنگین خلاف ورزی ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ہو رہی ہے
موسم گرما کے ٹرینوں کے ٹائم ٹیبل میں بھی ڈویژنل انتظامیہ لاہور نے کوئی تبدیلی نہیں کی عوام الناس بارہا ریلوے حکام سے مطالبہ کر رہے
ہیں کہ سیالکوٹ ایکسپریس 171اپ کا لاہور سے روانگی کا وقت صبح 5 30 اور فیض احمد فیض ٹرین کا نارووال سے لاہور روانگی کا وقت صبح 5 بجے کیا جائے کیونکہ اب دفتری اور تعلیمی اداروں کا وقت 8 بجے صبح ہوگیا ہے فیض احمد فیض ٹرین سے بہت بڑی تعداد میں مسافر لاہور آتے ہیں لیکن ریلوے انتظامیہ نے ابھی تک ان دونوں ٹرینوں کا اپ ڈاؤن سائیڈ سے وقت تبدیل نہیں کیا ریلوے انتظامیہ کی بے حسی دیکھیں کہ بادامی باغ پر سیالکوٹ ایکسپریس اور لاثانی ایکسپریس کے سٹاپ ختم کر دیئے ہیں حالانکہ ریلوے اور روڈ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے پاکستان کا سب سے بڑا جنرل بس اسٹینڈ اور اس کے ساتھ پھل سبزی منڈی۔آٹو مارکیٹ۔کپڑے کی مارکیٹ اور دیگر بڑی مارکیٹیں ہیں نارووال سیالکوٹ کے مسافروں کیلئے بادامی باغ آئیڈیل ریلوے اسٹیشن ہے جہاں سے وہ باآسانی صبح سویرے کم خرچ پر سوار ہو کر منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہیں لیکن ریلوے ڈویڑنل لاہور انتظامیہ نے بادامی باغ ریلوے اسٹیشن پر لاثانی اور سیالکوٹ ایکسپریس کے سٹاپ ختم کر دیئے ہیں اور اسی طرح سیالکوٹ ایکسپریس کے کالا خطائی اور مہتہ سوجا پر سٹاپ ختم کیئے ہیں حالانکہ لاثانی ایکسپریس کے کالا خطائی اور مہتہ سوجا ریلوے اسٹیشن پر سٹاپ ہیں
وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے گوش گزار ہے کہ وہ نارووال سیالکوٹ وزیر آباد سیکشن پر چلنے والی ٹرینوں میں کم تعداد میں بوگیوں کے لگانے کا نوٹس لیتے ہوئے فی الفور ان ٹرینوں میں 10 مطلوبہ بوگیاں لگانے کے احکامات جاری کریں اسی طرح سیالکوٹ ایکسپریس لاثانی ایکسپریس کے بادامی باغ کالا خطائی اور مہتہ سوجا ریلوے اسٹیشن پر سٹاپ کرنے کی منظوری دیں۔
عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ نارووال سیالکوٹ اور ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پنجاب نارووال سیالکوٹ سیکشن پر چلنے والی ٹرینوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو مشکلات پیش آنے پر انھوں نے کیوں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اگر واقعی حقیقت میں وفاقی وزراء اور اراکین اسمبلی نے آواز اٹھائی ہوتی تو اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آتے نارووال سے چک امرو برانچ کی بحالی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے اس پر بھی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب خصوصی اقدامات کریں اس سیکشن پر دربار صاحب کرتار پور ریلوے اسٹیشن بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اب تو سکھ برادری کو کرتار پور۔لے جانے کیلئے ریلوے اس کا بھرپور فایدہ اٹھا سکتا ہے۔