وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لیں

چودھری فرحان شوکت ہنجرا 
ضلع شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی میں سیلاب 2025 اپنی تلخ یادیں چھوڑ گیا جس نے نارنگ منڈی کے متعدد دیہاتوں جاجو گل۔بریار۔پسیانوالہ سترائیاں لونگ والا منڈیالی چاند جنڈیالہ کلسیاں دودھے کوٹلی میانی چکرالی کو نہ صرف ڈبو دیا بلکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی چاول و دیگر اجناس کو تہس نہس کردیا حکومتی وزرا صوبائی محکموں کے سرکاری افسران نے علاقے کا وزٹ کیا عوام کو طفل تسلیاں دیں اور چلتے بنے ‘محکمہ اریگیشن نے ایم آر لنک نہر کے جاجو گل سے ڈاؤن سٹریم سے بریار پسیانوالہ تک حفاظتی بند بنانا تھا لیکن اریگیشن حکام کی عدم دلچسپی سے  2017 سے 2025 سال کا اختتام ہونے والا ہے لیکن یہ حفاظتی بند تعمیر نہیں کیا جاسکا اگر یہ حفاظتی بند تعمیر ہوا ہوتا تو سیلاب 2025 میں اوپر درج زیل دیہات سیلابی پانی سے محفوظ رہتے یہ محکمہ اریگیشن پنجاب کی سنگین غفلت کا ہی نتیجہ ہے اور اب بھی محکمہ اریگیشن پنجاب کے اعلیٰ حکام اس  بند کی تعمیر کے حوالے سے پر کوئی دھیان نہیں دے رہے بلکہ عوام کو کھلا رہے ہیں  پنجاب اسمبلی کے ایوان میں محکمہ اریگیشن نے جواب جمع کروایا کہ چک بندی ڈویڑن نے اس مقام پر حفاظتی بند بنانے کا منصوبہ پیش نظر ہے۔ اور 2017 میں 99 ملین روپے کے تخمینہ کا حفاظتی بند کا منصوبہ تھا جو اب 2025 میں 1100 ملین روپے تک پہنچ چکا ہے اس منصوبے کا محکمہ پی اینڈ دی سے پی سی 1 بھی اپروو ہو چکا ہے لیکن محکمہ اریگیشن پنجاب نے اسے آج تک اسے سالانہ ترقیاتی پروگرام ADP شامل کرانے کی تگ ودو نہیں کی اور اب بھی اریگیشن حکام غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہ عوامی مفاد عامہ کا منصوبہ شٹل کاک بنا ہوا ہے ‘وزیر اعلیٰ پنجاب نارنگ منڈی کے علاقے میں جاجو گل سے بریار پسیانوالہ تک حفاظتی بند نہ بنانے کا فوری نوٹس لیں اور حفاظتی بند بنانے کی منظوری دیں اور اریگیشن حکام کی بازپرس کریں اور صوبائی وزیر آبپاشی کو اس حفاظتی بند کی تعمیر کا ٹاسک دیں حکومت پنجاب نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے واضح طور پر کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کی جائے گی ہم یہاں وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہیں گے کہ ایم آر لنک نہر کا پانی جب دریائے راوی میں گرتا ہے اور ڈاؤن سٹریم پر ایم آر لنک نہر اور دریائے راوی کے پانی کے ملاپ سے دریائی پانی کے کٹاؤ سے زرعی رقبہ دریا برد ہو جاتا ہے کسان کئی سالوں سے حکومت اور محکمہ اریگیشن حکام کو کئی سالوں سے دہائیاں دے رہے ہیں لیکن کسانوں کے جائز مطالبات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جارہا ہے    سیلاب 2025 میں چاول کی فصل سیلاب کی نظر ہو جانے سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے جس کے ذمہ دار محکمہ اریگیشن پنجاب بھی ہے یہ حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کے آگے کسی کا  بس نہیں چلتا حفاظتی بند ٹوٹ جاتے ہیں لیکن یہاں تو حفاظتی بند بنایا ہی نہیں گیا لیکن ایم آر لنک نہر سے ڈاؤن سٹریم پر بی آر بی نہر تک حفاظتی بند نہ بنا کر  محکمہ اریگیشن پنجاب صریحاً  قومی جرم کا مرتکب ہوا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے گندم کہ کاشت کے حوالے سے پنجاب میں رواں سیزن کے دوران گندم کی کاشت کا ہدف 1 کروڑ 65 لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 62 لاکھ میٹرک گندم کے 
سٹریٹجک ذخائر کیلئے خریداری کریں گے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ تمام ڈویڑنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری اراضی پر گندم کی کاشت کو ہر صورت یقینی بنائی جائے 
کاٹن ایئر2025-26 کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار اور گزشتہ کاٹن ایئر2024-25 کے مقابلے میں کم ہوگئی ہے 16 سے 31 اکتوبر کے درمیان کپاس کی آمد میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارڈ 46 فیصد کمی سے کپاس کی کل پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں 10 سے 15 فیصد کم ہو سکتی ہے چیئرمین کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ پی سی جی اے کے پیداواری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک میں جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 44 لاکھ 37 ہزار بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 19 لاکھ 9 ہزار۔جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 25 لاکھ 28 ہزار بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جبکہ ٹیکسٹائلز ملز کو اپنے برآمدی آرڈرز پورے کرنے کیلئے اس سال زیادہ روئی درآمد کرنا پڑ سکتی ہے افغانستان سے روئی کی درآمدات بارڈر کی بندش کے باعث معطل ہونے اور برازیلین کاٹن میں honey dew جیسے مسائل کے باعث پاکستان کو زیادہ تر روئی امریکہ سے مہنگے داموں پر درآمد کرنا پڑ سکتی ہے 
یہ یہ حکومتوں کا زراعت کے شعبے کے ساتھ کھلواڑ کہ پاکستان جو کپاس کی پیداوار میں خود کفیل تھا جسے اب کپاس درآمد کرنا پڑ رہی ہے  پنجاب کی وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم دن رات زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود و ترقی کے دعوے کرتے تھکتی نہیں وہ کپاس کی پیداوار میں کمی کا نوشتہ دیوار پڑھ لیں دوسری جانب یہ جو کسانوں کو مفت اور سبسڈائزڈ قیمتوں پر ٹریکٹرز اور دیگر مشینری دینے کا عمل جاری ہے اس سے کسانوں اور زراعت کے شعبے میں تو کوئی بہتری نظر نہیں آئی ہاں البتہ ٹریکٹرز ساز فیکٹریوں کے اونرز کے وارے نیارے ہو گئے ہیں اور ان کی خوب چاندی ہو رہی ہے 
دوسری جانب جو سرکاری اراضی پر گندم کی کاشت کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے یہ حکومت کی بوکھلاہٹ کا واضح نتیجہ ہے کیونکہ کاشتکاروں نے تو سرکاری اراضی سرکارکو رقم کی ادائیگی کرکے معاہدہ کے تحت ٹھیکہ پر لے رکھی ہے اب کسان جو چائیں اپنی مرضی کی فصل کاشت کریں لیکن اب ان کاشتکاروں پر ڈویزنل ڈسٹرک انتطامیہ کاشتکاروں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ لازماً گندم کی ہی فصل کاشت کریں اور یہ جو حکومت کی جانب سے کسان کنونشن ہو رہے ہیں اس میں کاشتکاروں کو دبے الفاظ میں تڑی لگائی جا رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کسان روڈ کارواں میں شرکت کی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین بھی کسان روڈ کارواں میں شریک ہوئے 
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے گوجرہ نوشہرہ ورکاں میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے من کو مسترد کرتے ہیں گندم کی قیمت 4500 روپے من مقرر کی جائے انہوں نے کہا جماعت اسلامی کسانوں کے جائز مطالبات کے ساتھ ہے اور ان کا ہر فورم پر ساتھ دے گی  وفاقی اور پنجاب و سندھ حکومت کی زرعی پالیسی ناکام ہیں جس کا واضح ثبوت ہے 
کہ کپاس کی پیداوار میں ہر سال مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے حکومت پنجاب کا کسان کارڈ دراصل قرض کارڈ ہے۔