حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن شہباز شریف
مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، معرکہ حق میں بھارت کو وہ سبق سکھایا جو نہیں بھولے گا،دوبارہ ایسی صورتحال سے بچنے کیلئے مسئلہ کشمیر حل کیا جائے:وزیراعظم، انتونیو گوتریس ،عباس عراقچی ،پرنس رحیم آغا سے ملاقاتیں
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہونی چاہیے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ، آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔انہوں نے کہا میں پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کررہا ہوں۔ شہباز شریف نے کہا پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدّس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہونی چاہیے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزی اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔قبل ازیں وزیراعظم نے یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی جس دوران انہوں نے کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم اور عالمی امن و ترقی کے فروغ میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے پاکستان کی مضبوط وابستگی کا اعادہ کیا اور خطے اور دنیا کو درپیش سنگین چیلنجوں پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی قیادت کو سراہتے ہوئے انسانیت کی بہتری کے لیے اقوام متحدہ کے تمام شعبوں میں یو این منشور کی پاسداری کے حوالے سے ان کے اصولی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنمائوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور بارے تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کے لیے بھی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کو اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان بالخصوص پاکستان کے قریبی ہمسایہ خطے میں اس کے بڑھتے واقعات سے آگاہ کرتے ہوئے اس رجحان کی روک تھام کے لیے مثر عالمی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں رہنمائوں نے افغانستان کی صورتحال اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں ہونے والے تشویشناک اضافے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائدانہ کردار و مثر آواز، عالمی امن و سلامتی کے لیے خدمات بالخصوص تنازعے کے پرامن حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کی اہم سفارتی و ثالثی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور اس ضمن میں دی جانے والی قربانیوں کو بھی سراہا۔دریں اثنا شہباز شریف کی ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان پنجم سے بھی ملاقات کی۔وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور رواں سال کے اوائل میں آغا خان کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کیا۔ شہباز شریف نے پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستانہ اور مثبت تعلقات کو مستحکم رکھنے کے لیے پرنس رحیم آغا خان کے عزم کو سراہتے ہوئے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے قریبی تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے،پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بالخصوص اسماعیلی برادری کی دیرینہ خدمات قابل تحسین ہیں،معاشرے کے لیے خدمت اور شہری شمولیت کی اس قابلِ قدر روایت کو سراہتے ہیں۔