رانا ذوالفقار
تحریک انصاف کا احتجاج کا ریکارڈ 2014 سے شروع ہوتا ہے، اور ہر احتجاج کا پیٹرن تقریباً ایک ہی رہا ہے ۔۔۔ صرف اور صرف اسلام آباد پر چڑھائی، سڑکیں بند، اور آخر میں ملک کو معاشی و اخلاقیات کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
*2014 میں ہونے والا 126 دن کا دھرنا کسی کو نہیں بھول سکتا، "ایمپائر" کی انگلی کا انتظار کرتے کرتے یہ سب سے طویل احتجاج تھا۔ صرف اس دھرنے کے دوران اسلام آباد میں کاروبار کی بندش سے ایک اندازے کے مطابق 500 ملین سے 800 ملین روپے روزانہ کا نقصان ہوا۔ جبکہ وزیر اعظم کے مشیر نے اس وقت مجموعی نقصان 6 ارب ڈالر تک بتایا تھا۔ سٹاک مارکیٹ میں اس دوران شدید مندی دیکھی گئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بری طرح متزلزل ہوا۔
2022 کا آزادی مارچ اور پھر لانگ مارچ بھی سب کو یاد ہیں۔ 2022 کے بعد سے اب تک درجنوں بار اسلام آباد اور لاہور کو بند کرنے کی کال دی گئی۔ ہر بار کنٹینرز، پولیس کی تعیناتی، سکولوں کی بندش اور انٹرنیٹ کی بندش سے عام آدمی کا روزگار متاثر ہوا۔ تاجروں کی تنظیموں نے بار بار کہا کہ یہ مارچ ملک کی معیشت کے لیے تباہ کن ہیں۔
9 مئی 2023 کا احتجاج تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ بھیانک اور نقصان دہ احتجاج تھا، فوجی تنصیبات پر حملوں سے بھارت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کہا جاتہا تھا کہ پاک آرمی کو اتنا نقصان کوئی دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا تھا، دشمن ملک صرف ایسا سوچ ہی سکتا تھا۔ *اس دن سرکاری و عسکری تنصیبات، جناح ہاؤس لاہور، جی ایچ کیو گیٹ، ریڈیو پاکستان پشاور سمیت 200 سے زائد سرکاری املاک کو جلایا گیا، سرکاری گاڑیاں جلائی گئیں، پولیس پر بھی حملے ہوئے۔ صرف سرکاری املاک کا نقصان اربوں روپے میں تھا، میں ذاتی طور ہر سنجھتا ہوں کہ اس احتجاج نے الٹا پی ٹی ائی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر کاری ضرب لگادی اور تب سے اس کی قیادت حکومت کو پھنساتے پھنساتے خود پھنس کر رہ گئی ہے۔پھر نوبت فائنل کال تک اگئی، 26 نومبر 2024 میںآخری کال" اور "فائنل کال" کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی۔ حکومت کے مطابق 3 دن میں اسلام آباد کی معیشت کو 190 ارب روپے کا نقصان ہوا، روزانہ 1.5 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو ضائع ہوا، اور پولیس و رینجرز کے سینکڑوں اہلکار زخمی ہوئے*۔ان دھرنوں اور احتجاجی مارچوں نے ملک کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے ،ابھی میں آزادکشمیر میں بھارت کی شہہ پر ہونے والے احتجاج کا زکر نہیں کررہا، کیونکہ پھر ملک میں انتشار کو ہوا دینے کی کڑیاں بہت دور تک ملتی جائیں گی، پاکستان میں صرف شٹر ڈاؤن ہڑتال پر جی ڈی پی کا 2% تک نقصان ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ نقصان سوشل پروٹیکشن
پر ہونے والے کل خرچ سے 3 گنا زیادہ ہے۔ سرمایہ کار "Wait and See" کی پالیسی اپنا لیتے ہیں جس سے ملک میں سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ اور ساتھ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ملک کو اخلاقی اور ادارہ جاتی نقصان پہنچایا گیا۔ احتجاجوں نے نوجوانوں میں اداروں سے نفرت، گالی گلوچ کی سیاست اور فیک نیوز کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ یہاں میں یہ بھی کہوں گا کہ پرامن احتجاج تو ہر شہری کا حق ہے، لیکن جب احتجاج جلاؤ گھیراؤ، اور صرف ریاست اور معیشت کو یرغمال بنانے میں بدل جائے تو وہ احتجاج نہیں، فساد بن جاتا ہے اور ایسے فساد اور فسادیوں سے نمٹنے کیلئے ہمیشہ ریاست اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔