آپا منزہ جاوید
ہمارے معاشرے میں جب شادی کے دن مقرر کیے جاتے ہیں تو شادی کی تیاریاں شروع کر دی جاتی ہیں کھانا کون بنائے گا کس مارکی یا ہوٹل میں دعوت ہوگی بارات ہوگی یا ولیمہ یا مہندی ہوگی تقریبات کے تمام انتظامات کو بڑی توجہ سے دیکھا جاتا ہے شادیوں کے لیے ہوٹلز اور مارکیاں درجنوں موجود ہیں پھر بھی سب فکر مند ہوتے ہیں بہت سے افراد مل کر یہ ذمہ داری نبھاتے ہیںیہ نظام قدرت ہے کہ جہاں خوشی ہے وہاں غم بھی ہے زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے شادی کی تو تاریخ مقرر ہوتی ہے مگر موت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوتی اسے کب آنا ہے کسی کو معلوم نہیں اس کے باوجود ہم نے کبھی ایسے موقع کے لیے تیاری نہیں کی ہوتی حالانکہ موت برحق ہیگاؤں میں تو پھر بھی آسانی ہو جاتی ہے اگر کوئی غریب ہے تو محلے والے مل کر اس کے کفن دفن کا انتظام کر لیتے ہیں لیکن جو لوگ دوسرے شہروں میں اپنی ملازمت کے سلسلے میں رہ رہے ہوتے ہیں کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں ان کا کیا‘یا ایسے گھر جہاں گھر کا سربراہ فوت ہو جائے بچے چھوٹے ہوں یا بیٹا نہ ہو صرف بیٹیاں ہوں اور رشتے دار بھی قریب موجود نہ ہوں تو وہ کیا کریں‘شہروں میں تو گھر بھی چھوٹے ہیں اور اکثر ایسے بنے ہوئے ہیں کہ گھر کے اندر میت کو غسل دینے کا انتظام بھی نہیں ہو سکتا ایسے میں گھر والوں کے لیے ایک نئی پریشانی کھڑی ہو جاتی ہے ایک طرف گھر کا سربراہ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور اس کا دکھ اپنی جگہ ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ فکر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے کہ میت کو غسل کیسے دیا جائے کفن کہاں سے آئے چارپائی کہاں سے لائی جائے اور باقی ضروری انتظامات کیسے ہوں‘گھر والے اپنے عزیز کی جدائی کے غم کے ساتھ اس پریشانی میں بھی مبتلا ہوتے ہیں کہ سب انتظام کیسے ہوگا کفن خریدنے کون جائے گا چارپائی کہاں سے آئے گی اور میت کے غسل اور تدفین کا انتظام کیسے کیا جائے گامیرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے کہ محلے کی ہر مسجد میں میت کے غسل اور کفن کے بنیادی انتظام کی سہولت موجود ہو اسی طرح کوئی انجمن کوئی ادارہ یا فلاحی مرکز ایسا ہونا چاہیے جہاں رابطہ کرتے ہی اس مشکل وقت کے ضروری مسائل حل ہو سکیں جس میں میت کو غسل دینے کفن کا انتظام میت کے لیے چارپائی چادر اور دیگر ضروری سامان کا بندوبست شامل ہو‘اسی طرح اگر کسی خاندان کو مہمانوں کے لیے بستر درکار ہوں ختم شریف یا قرآن خوانی کے لیے سفید چادریں چاہییں یا کھانے کا انتظام درکار ہو تو اس ادارے انجمن یا سوسائٹی کے پاس اس کا بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے گھر والوں کی اجازت اور ان کی استطاعت کے مطابق تین دن تک ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں تاکہ غمزدہ خاندان کو ہر چھوٹے بڑے انتظام کے لیے در در نہ جانا پڑے‘شہروں میں قبر کے لیے جگہ کا انتظام بھی ایک مشکل مرحلہ ہے ایسے وقت میں محلے کی کمیٹی یا مسجد کی انتظامیہ کو اس مسئلے کا آسان اور جلد از جلد حل نکالنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ غمزدہ گھر والے اپنے عزیز کی تدفین کے لیے خوار نہ ہوں‘قبرستان سب کے لیے ہونے چاہییں جو شخص جس علاقے میں رہتا ہو اگر اس کا انتقال ہو جائے تو اسے قریبی قبرستان میں جگہ ملنے کا مناسب انتظام ہونا چاہیے قبرستانوں میں امیر اور غریب کی تقسیم یا دھڑوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے موت کے بعد سب انسان برابر ہیں‘عجیب بات ہے کہ ہر تقریب کے لیے ہوٹلز مالز اور مارکیاں مل جاتی ہیں لیکن جو سب سے ضروری اور لازمی مرحلہ ہے اس کے لیے کوئی ادارہ کوئی انجمن یا کوئی باقاعدہ مرکز کیوں نہیں ہونا چاہیے‘ایسا مرکز ہونا چاہیے جس کی ایک واضح پہچان ہو کہ مشکل وقت میں صرف انہیں فون کرنا ہے اور ضروری انتظام ہو جائے گا‘ایک اور اہم مسئلہ ان گھروں کا ہے جو بہت چھوٹے ہوتے ہیں جہاں قرآن خوانی یا قل کے لیے جگہ نہیں ہوتی کیا ہی اچھا ہو کہ مساجد میں کوئی ایسی جگہ مقرر کر دی جائے یا فلاحی ادارے اور مراکز ایسی جگہ کا انتظام کریں جہاں چھوٹے گھروں والے خاندان قرآن خوانی اور ختم کے لیے مناسب طور پر اس جگہ کو استعمال کر سکیں‘قبرستان کے لیے بس اور ایمبولینس کی سہولت بھی بہت ضروری ہے ان تمام سہولیات کے لیے آن لائن ایک ویب سائٹ بنائی جائے جس پر تمام معلومات موجود ہوں اور ایسے کھلے نمبرز دیے جائیں جن پر ضرورت کے وقت کسی بھی لمحے رابطہ کیا جا سکے‘وقت کے ساتھ ہمارے رہن سہن بھی بدل گئے ہیں جیسے جیسے ہم بند گھروں میں رہنے لگے ہیں محلے داری بھی کم ہوتی گئی ہے پہلے جیسا میل جول بھی نہیں رہا ویسے بھی اب لوگ ایک دوسرے کے معاملات میں دخل دینے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں کوئی ذمہ داری یا خرچہ نہ اٹھانا پڑ جائے‘ایسے حالات میں فلاحی کمیٹیاں فلاحی ادارے انجمنیں اور اگر ضرورت ہو تو مناسب اصولوں کے تحت نجی ادارے بھی ہونے چاہییں جو اس مشکل اور غم کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے کام آ سکیں تاکہ کسی شخص کو اپنے عزیز کی وفات کے وقت انتظامات کی پریشانی میں اکیلا نہ چھوڑ دیا جائے‘لیکن سب سے گزارش یہ بھی ہے کہ جو لوگ ایسے ادارے بنائیں وہ اپنے اخراجات اور فیس مناسب رکھیں یہ سوچ کر کہ یہ وقت سب پر آنا ہے کوئی انسان موت سے بچ نہیں سکتا اس لیے جتنا ہو سکے نیکی کر لینی چاہیے کبھی کبھی بھلائی اور نیکی کمانے کے لیے دنیاوی طور پر تھوڑا سا گھاٹا بھی برداشت کر لینا چاہیے کیونکہ کسی غمزدہ انسان کے مشکل وقت میں کام آ جانا شاید دنیا کے کسی بھی فائدے سے بڑھ کر ہو