امجد علی
برصغیر کی فکری و روحانی تاریخ کا ایک تابناک دن 9 نومبر ہے، جب سیالکوٹ کی زرخیز مٹی سے وہ چراغ روشن ہوا جس کی لو نے غلام ذہنوں میں آزادی، خودی اور ایمان کا شعور بیدار کیا۔ وہ محض شاعر نہیں تھا، بلکہ فکر و حیات کا معمار تھا وہ صرف خواب دیکھنے والا نہیں، بلکہ خوابوں کو تعبیر دینے والا تھا۔ وہ محمد اقبال تھے شاعرِ مشرق، مفکرِ ملت، اور ترجمان حقیقت۔اقبال فہمی آج بھی ایک معما ہے کوئی اسے شاعر کہتا ہے، کوئی فلسفی، کوئی صوفی، تو کوئی دانائے راز۔کبھی وہ سیاروں کا مسافر دکھائی دیتا ہے، کبھی فرشتوں کا رفیق۔ کبھی وہ عروج و زوال اقوام کا تاریخ دان بن کر ابھرتا ہے، اور کبھی ذروں کے پاتال سے کہکشاؤں تک کا مشاہدہ کراتا ہے۔ آخر اسے کیا کہا جائے؟ شاعر؟ مفکر؟ صوفی؟ فلاسفر؟ یا وہ سب کچھ جو انسانی شعور کے ارتقا کا نام ہے؟اقبال کا مذکورہ شعر پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے خود کو "ٹوٹا ہوا تارا" کہا ہو ایک ایسا تارا جو آسمان سے زمین پر اترا ہے تاکہ قوم کے جوانوں کے بجھے دلوں میں روشنی کی کرنیں بھر دے۔ مٹی سے بنے وجود کے ذروں میں نور بھر دے وہ اپنی قوم کے جوانوں کو پکار رہا تھا اٹھو، جاگو، تدبر کرو! کہ تمہاری پیشانی پر وہی نور چمکنے کے لیے بے تاب ہے جو ثریا کے پار بھی روشنی پھیلا سکتا ہے۔ہر سال جب ہم "یوم اقبال" مناتے ہیں، تو دراصل ہم اس مرد حق کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جس نے قوموں کے شعور کو ناپا، ان کی زنجیروں کی صدا سنی، اور پھر انہیں آسمان ذات کے آئینے میں ان کا مقدر دکھایا۔ اْس کی بلند قوت متخیلہ کے حیرت کدہ میں، ہم نے خوابوں کو وجود بنتے دیکھا۔ جب اقبال نے جب ایک آزاد ملت کا نقشہ تراشا، تو پاکستان کی صورت میں وہ حقیقت بن گیا۔ اْس نے ‘‘ستاروں پہ کمند ڈالنے’’ کی بات کی تو شاہینوں نے فضا کی وسعتوں میں اپنے پر پھیلا کر تسخیر افلاک کا آغاز کر دیا۔ زمین کی زنجیروں میں جھکڑے دشمن، حیرت زدہ نظروں سے آسمانوں کی طرف ان کی اڑان کو دیکھ رہے تھے۔لیکن آج سوال یہ ہے کہ ہم اقبال کو یاد کرتے ہیں یا زندہ کرتے ہیں؟ کیا ہم اْن کے افکار کو اپنی تحقیق، عمل، اور جستجو کی سانسوں سے حرارت دے رہے ہیں؟ یا ہم نے اپنے خوابوں اور اقبال کے مہکتے، معطر اشعار کی پتیوں کو زمین کا گرد و غبار بنا دیا ہے؟اقبال نے ان کی حالت سنوارنے کے لیے پکارتا ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
مگر آج اس ملت کے کئی ستارے بجھ چکے ہیں۔ ہمارے نوجوان اپنی خودی کے افق پر اڑنے سے ڈرتے ہیں، جیسے زمین کی مٹی اْن کے پروں کا بوجھ بن گئی ہو۔ حالانکہ اقبال کی شاعری انسان کو خاک سے اٹھا کر نور تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ وہ اپنے جوانوں کو خود شناسی کا سبق ازبر کرواتے لکھتے ہیں۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔
یوں اقبال کی شاعری محض الفاظ کا طلسم نہیں، ایک تحرک ایک انقلاب کا منشور ہے، بلکہ انسان کی روح کا ارتقاء ہے۔ وہ خاکی وجود سے نوری جوہر تک کی پرواز کرتی ہے کہ مخلوق، خالق کے ہم سخن ہو جائے۔ ان کی فکر زمین کی زنجیروں سے نکل کر فلک کی وسعتوں میں گھومتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسان کی اصل معراج جسم کی مٹی سے اٹھ کر عقل و روح کے افلاک تک پہنچنا ہے۔ وہ ماضی کی زنجیروں سے آزاد، حال کی زبوں حالی سے بیزار اور مستقبل کے افق پر کمند ڈالنے والا مسافر ہے۔ وہ وہی ٹوٹا ہوا تارا ہے جو زمین پر گر کر نئے ستاروں کو جگمگا دیتا ہے۔ایک جانب ہمہ وقت کہکشاوں میں محو پرواز اقبال، پھر اسکے کچھ جوانوں کی فتوحات کے باوجود ابھی اقبال کے افکار کا ستاروں بھرا افق کچھ بجھا سا ہے، کیونکہ ہمارے جوانوں کی کثرت، خودی کے افق پر اڑنے سے خوفزدہ بھی ہیں اور اونچی اڑان بھرنے کی بجائے زمین پر رینگنے کو سہل جان کر اپنا لیا ہے۔ آج، جب ہم فکرِ اقبال میں جھانکتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ شاید ہمیں پھر کسی ‘‘ٹوٹے ہوئے تارے’’ کی ضرورت ہے مگر اس بار وہ تارا ہم خود ہیں۔ ہمارے اندر ایک شاہین سو رہا ہے جو بیدار ہونے کا منتظر ہے، اس ایک قطرہ کا منتظر ہے جو کوہ جودی سے ابل کر جرائم، شرک اور خود پرستی میں گم جہان تمام کو آب آب کر بہا لے جائے۔ وہ منتظر ہے ایک ٹوٹی ہوئی کرن--ایک شرر جو اگر بھڑک جائے تو پوری ملت کے آسمان کو جگمگا دے۔ اگر تو جاگ جائے تو ہر شب سحر میں بدل سکتی ہے، اور ہر شکست کامیابی کی تمہید بن سکتی ہے۔ دنیا تجھے قید میں رکھنا چاہتی ہے، مگر اگر تیرے پر اقبال کی خودی کے نور سے روشن ہو جائیں تو کوئی آسمان تیری پرواز کا راستہ نہیں روک سکتا۔ اْٹھ! اپنی ذات کے کوہِ جودی سے وہ ایک قطرہ تلاش کر جو تیرے وجود کو دریا میں ڈھال دے، کیونکہ جب دریا بہنے لگتے ہیں تو تاریخ کے دھارے بدل جایا کرتے ہیں۔اگر یہ نوجوان اقبال کے افکار کا سچا ترجمان بن جائے تو یقیناً وہ مشرق کو علم، ہنر اور ترقی کی اْس معراج تک پہنچا دے گا جہاں سے مغرب حیرت سے مشرق کی بیداری کا نظارہ کرتا رہ جائے گا بالکل ویسے ہی جیسے ہر سال کھیلوں کے میدان میں نیا چہرہ فتح کا پرچم لہراتا ہے۔ اس بار وکڑی سٹینڈ پر پورے وقار سے بیدار مسلم نوجوان ہی کھڑا ہو گا۔