والدین بچوں کے مستقبل کی فکر میں غلطاں و پیچاں

 نازیہ آصف 

آجکل کر ہر دوسرے بندہ اسی فکر میں مبتلا ہے کہ "بس اولاد زرا سیٹ ہو جائے " بادی النظر میں یہ فقرہ سننے ، پرکھنے میں قطعا برا بھی نہیں، والدین کی یہ سوچ، بالکل فطری ہے۔ ہر ماں ہر باپ کی یہ پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد معاشی حوالے سے مضبوط ہوجائے تاکہ وہ مستقبل میں معیشت سے جڑے تفکرات سے آزاد رہ پائے۔
لیکن اس مندرجہ بالا فقرے کے پیچھے ایک گہری اور تلخ سچائی  ہے کہ آجکل اس سے مراد یہ لیا جاتا ہے کہ "  اولاد کہیں بیرون ملک سیٹ ہو جائے"۔
والدین جنھوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اولاد کو جوان کیا ہوتا ہے وہ توقع رکھتے ہیں کہ اولاد  بیرون ملک سیٹ ہو جائے گی تو ہماری زندگی بھر کی تھکاوٹ اتارے گی، ہمیں سر پہ بٹھائے گی، ہمارے اخراجات بڑی خوش دلی و فراخدلی سے پورے کرے گی، ہمارے بڑھاپے میں ہمارا دست و بازو بنے گی۔اسی تگ و دو میں وہ بیٹے کو گرایجویشن یا ماسٹر ڈگری کے فوری بعد باہر بھیج دیتے ہیں ، بلکہ کء تو میٹرک کرنے سے بھی پہلے ڈنکیاں لگا کر یورپ وغیرہ پہنچ چکے ہوتے ہیں۔
تو یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ نے اپنے گھر کے گملے سے پودا لیا اور اپنے گھر سے دور کسی دوسرے کے پلاٹ میں جا کر لگا دیا اور پھر یہ سمجھتے رہے کہ وہ پودا جو اب دھیرے دھیرے درخت بن رہا ہے وہ ہمارا ہے 
ہمیں پھل دے گا ، ٹھنڈی چھاؤں دے گا۔
جبکہ حقیقت اس سے کافی مختلف ہو چکی ہوتی ہے اور ہم اس کا ادراک ہی نہیں کر پاتے۔
آپ نے اس پودے کو اس وقت گھر کے گملے سے دور جا لگایا جب اس کی جڑیں تیزی سے پھیل رہی تھیں ، مضبوط  ہو رہی تھیں۔ اس میں شعوری بالیدگی تیزی سے ہو رہی تھی۔ آپ اپنی محبت سے قربت کے اس احساس کو اس وقت مضبوط کر کے یہ رشتہ پائیدار کر سکتے تھے۔
قارئین !جب ہاتھوں سے لگائے گئے پودوں  کا پھل کھانے کا وقت ہوتا ہے ان کی طراوت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا وقت ہوتا ہے تو اس وقت وہ ہم سے دور ہو چکے ہوتے ہیں۔
ایک خاتون سے بات ہوء ، جن کی انکھیں بار بار اس بات پہ اشکبار تھیں کہ بیٹے کو آٹھ سال یو گئے کینیڈا بسے ہوئے ، وہیں شادی بھی کر لی۔
ایک صاحب جو اسی کی دھائی میں یورپ پدھار گئے وہ اس بات پہ نوحہ کناں ہیں کہ اولاد کا نہیں پتہ کہ انھوں نے کس مذہب کے پیروکاروں سے بیاہ رچا لیے ہیں ۔اب یہ غور طلب بات ہے کہ "کیا والدین اولاد کی اسی سیٹنگ بارے غلطاں و پیچاں تھے "۔
ہاں بالفرض اگر کوء بچہ کسی اچھے ملک میں (مالی لحاظ  سے )بہت اچھی طرح سیٹ ہو جاتا ہے ، وہ والدین کو بھی اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے تو بہت کم والدین ایسے ہوتے ہیں تو بڑھاپے میں سب عزیزوں کو چھوڑ کر بیرون ملک سیٹ ہونا چاہیں گے
اب اولاد واپس نہیں آ سکتی، والدین باہر جانا نہیں چاہتے، نتیجہ۔۔  والدین گھروں میں نوکروں کے حوالے۔ 
کیا ہی بہتر ہو کہ ہم اولاد کو اپنے ساتھ رکھ کر سیٹ کرنا چاہیں۔
کبھی بحثیت والدین ہم نے سوچا ، کہ جو بچے بیرون ملک چلے جاتے ہیں وہ کس طرح کی زندگی وہاں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ، کتنی طرح کے مسائل اور ڈپریشن سے وہ نبرد آزما ہوتے ہیں۔انتہا یہ ہے کہ اب لڑکیاں بھی سکالرشپ کے سہارے اسی طرح بیرون ملک جا رہی ہیں۔میں لڑکیوں کے بیرون ملک جانے یا جاب کرنے کے خلاف ہر گز نہیں ہوں ، ایسے شواہد بھی ہیں کہ جب بچیاں وہاں کسی تنگی کا شکار ہوتی ہیں تو وہ لڑکوں کے ساتھ کمرہ شیئر کرنے پر بھی مجبور ہو جاتی ہیں۔کرایہ نہ دینے پر وہ کس قسم کے رویے کا شکار ہوتی ہیں یہ آپ سمجھ سکتے ہیں 
ہاں جو بچے سمندری راستوں سے یورپ پہنچ جاتے ہیں وہ دس دس سال زیر زمین عقوبت خانوں میں رہ کر بہت کم اجرت میں مزدوری کرنے پہ مجبور رہتے ہیں۔
بیماری اور کسمپرسی میں کوء ان کا پرسان حال نہیں ہوتا اور یہاں  والدین گرین کارڈ ملنے کی آس میں خون تھوکتے مر جاتے ہیں۔ 
کیا یہی سیٹنگ تھی ، جس کے لیے ہم والدین مرے جا رہے تھے ؟
کیا اتنے پیسوں یا تعلیم سے یہاں روزگار سیٹ نہیں ہو سکتا تھا ؟
اس کے جواب میں عموماً مہنگائی اور بے روزگاری کا جواز مہیا کیا جاتا ہے۔
کسی بزرگ خاتون نے کبھی اپنے زمانے کو یاد کرتے ہوئے  کہا تھا کہ "  سستا وقت تھا ہم دیسی گھی کا ایک کلو بیچ کر لان کا سوٹ خرید لیتے تھے۔اس حساب سے دیکھا جائے تو آج بھی مہنگاء کی وہی ریشو ہے، آج بھی دیسی گھی کا ایک کلو بیچ کر لون کا سوٹ خریدا جا سکتا ہے۔
مسلہ ہمارے معاشرے میں نمودونمائش کی دوڑ کا ہے حلال حرام کے تصور کا ہے۔ "معزز " ہونے کی کسوٹی کا ہے۔
پہلے ہم نے صرف گھریلو دیسی کھانے کھانے ہوتے تھے اب ہم نے چینی ، تھائی یورپی اور اٹالین کھانے بھی کھانے ہوتے ہیں۔ 
ایک بار پہن لیا گیا جوڑا ہم کسی دوسرے فنکشن پہ پہننا توہین سمجھتے ہیں۔
پہلے کسی کی اچھی چیز دیکھ کر ہمارا بلڈ پریشر نہیں بڑھتا تھا ،رشک،  تقوی اور شکر کے جذبات پیدا ہوتے تھے اب دوسرے کا منہ لال دیکھ کر ہم اپنا منہ بھی لال دیکھنے کے متمنی ہوتے ہیں چاہے وہ چپیڑوں سے ہی کرنا پڑے۔
اولاد انسان کے پاس اللہ پاک کی امانت اور بڑھاپے کا سہارا ہوتی ہے۔جب والدین اس کسمپرسی میں مر جاتے ہیں تو یقین جانیے اولاد بھی ساری زندگی پچھتاوے اور دکھ میں جلتی رہتی ہے۔تھوڑے کو بہتا جانیئیں اور اولاد کو اپنے ملک میں اپنی جگہ بنانے کا گر سکھائیے۔وہ علیم و خبیر ہے محنت اور نیت کا پھل ضائع نہیں کرتا۔