کوئٹہ کانفرنس اور روشن فکر کی تجدید

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
اقبالؒ کاشاہین محض ایک شعری تمثیل نہیں۔اس کی جڑیں اسلامی تاریخ،صوفیانہ رمزیت،اورقرآن وسنت کے تصوراتِ انسان میں پیوست ہیں۔عربی واسلامی علامتی روایت کا جائزہ لیاجائے تواسلامی تہذیب میں پرندے کوہمیشہ بلندصفات کے استعارے کے طورپرلیا گیاہے۔قرآن مجیدمیں(سور النحل،سور الملک،سور البقرہ،سور فیل)پرندوں کاذکر حکمت،رزق کی تلاش اوربندگی کے شعورکے ساتھ آتاہے۔
حدیث شریف میں ایک مومن کی مثال اس پرندے سے دی گئی ہے جوصبح کواللہ پربھروساکرکے نکلتاہے اورشام کورزق لے کرآتا ہے یعنی اعتماد،توکل اوررزقِ حلال کی تلاش۔ اقبالؒ نے اسی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے نوجوان کیلئے شاہین کاانتخاب کیا۔
 سلطنتِ عثمانیہ اور وسطی ایشیا کی ترک تاریخ میں شاہین کااستعارہ بکثرت ملتاہے۔ترک ومغل عسکریت میں بھی شاہین کوشکار،ذہانت،شجاعت اورشاہی وقارکی علامت سمجھاجاتا تھا ۔ مغل دربار کے شاہی نمونوں میں بھی شاہین باربارایک امتیازی نشان کے طورپر سامنے آتاہے۔اقبال نے بالِ جبر یل میں اسی ترک واسلامی روایت کوجدید حکمت کے ساتھ ملایا ۔تصوف میں بھی شاہین کوبلندپروازی کے استعارہ میں پیش کیاگیاہے۔ابن عربی،رومی اورعبدالکریم الجیلی نے انسانِ کامل کوایک ایسے پرندے سے تشبیہ دی جواپنی اصل کی طرف پروازکرتاہے۔اقبال نے اسی روحانی تصورکوعملی زندگی کے ساتھ جوڑکرشاہین کا استعارہ تراشاہے۔ جوتجھے بلندکرے وہ خودی ہے،جوپست کرے وہ خواہش ہے۔
امریکی عقاب کی علامت کاتاریخی پس منظر1782ء سے ملتاہے جب گریٹ سیل آف دی یونائیٹڈاسٹیٹس میں بالڈایگل کوریاستی طاقت کانشان بنایاگیا۔عقاب کی یہ علامت ایسے سیاسی مزاج کی عکاسی کرتی ہے جس میں عسکری غلبہ، جغرافیائی مداخلت،عالمی بالادستی کی خواہش،اورطاقت کے مظاہرکی مسلسل نمائش مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔چنانچہ یہ عقاب ہماری آنکھوں کے سامنے کئی دہائیوں سے ویتنام،عراق، افغانستان،لاطینی امریکااورمشرقِ وسطی میں طاقت کاوہ مکروہ کھیل کھیلتارہاجس کامقصد’’آزادی‘‘کے نام پر جغرافیائی تسلط تھا۔علامہ اقبالؒ اس رویے کواچھی طرح سمجھتے تھے۔1920کے بعدکے ان کے خطبا ت مسلمانوں کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اورتشکیلِ جدیدمیں امریکی ویورپی سامراجی ذہنیت کی گہری تنقیدملتی ہے۔
دوسری طرف چین میں اژدہاہزاروں سال سے چینی تہذیب کی علامتطاقت،حکمت،صبرکامجموعہ سمجھاجاتاہے۔وہ قوت جس میںعسکری جارحیت کم اورتزویراتی حکمتِ عملی زیادہ ہے ۔تاریخِ چین(شاہی سلسلہ ہان،تانگ،منگ اورچنگ)میں اژدہے کوبادشاہ کی حکمت،قوم کی اجتماعی طاقت،ضبط وانتظار،معاشی تنظیم کی علامت سمجھاجاتارہاہے۔آج کی جدید ریاستِ چین اسی تاریخی تصورکی سیاسی شکل ہے۔اس کابیلٹ اینڈروڈمنصوبہ ہویامعاشی رسوخ،سب تزویراتی صبراورتدریج کے فلسفے پرمبنی ہے۔
لیکن اقبال ؒکا شاہین عقاب اور اژدہا سے مختلف کیوں ہے؟ اقبالؒ کا شاہین نہ سامراجی عقاب کی جارحیت رکھتا ہے، نہ چینی اژدہے کی زمینی حکمت۔ اس کی اصل قوت خودی، ایمانی فراست، رزقِ حلال، بے خوف پرواز اور اس کے باطن میں ہے۔ اقبالؒ کے یہاں شاہین کی خصوصیات ان دونوں تہذیبوں سے یکسرمختلف ہیں۔اقبالؒ کاشاہین بلندی کاخوگر پہاڑوں کی چوٹیوں پربسیرا کرتاہے،آزادمنش،قیدسے نفرت کرتاہے،پاکیزگی کی علامت ہے کہ مردارسے گریزکرتاہے،جرأت کی علامت ہے اورہرقسم کے خطرات سے بے نیاز ہے،اس کی خلوت اسے بلندیوں میں تنہائی اورتفکرعطاکرتی ہے اورسب سے اہم صفت اقبال کاشاہین طاقت کا غلام نہیں،اخلاق کاامین ہے۔یہ وہ صفات ہیں جونہ امریکی عقاب میں ہیں نہ چینی اژدہے میں۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اقبال کی خودی عقاب اوراژدہے کی اس عالمی کشمکش میں مسلم نوجوان کوکیاکردارعطاکرتی ہے؟خودی کا مفہوم،جواقبالؒ نے جاویدنامہ(1932)، ارمغانِ حجاز(1938)،اوربالِ جبریل(1935)میں گہرائی کے ساتھ بیان کیا،بتاتاہے کہ مسلمان کااصل سرمایہ اس کی بیرونی طاقت نہیں بلکہ اس کی اندرونی تعمیرہے۔وہی تعمیر جوانسان کوزمین پراللہ کی خلافت کااہل بناتی ہے۔
اگرآج مسلمان ریاستیں محض طاقت کے ان دومراکزامریکااورچین کے درمیان دب کررہ جائیں تویہ ان کی اپنی فکری کمزوری کا نتیجہ ہے۔اقبال ؒنے اس کمزوری کاعلاج خودی میں بتایاہے۔خودی وہ قوت ہے جوانسان کواپنی آزادی کااحساس دیتی ہے،اسے غلامی سے بغاوت،ظلم سے ٹکرااوردنیاکے طاقتوروں کے سامنے سربلندرکھنے کاحوصلہ عطاکرتی ہے۔اگرامتِ مسلمہ اس خودی کے پیغام کوسمجھ لے تونہ عقاب کاسایہ اسے خوفزدہ کرسکتاہے،نہ اژدہے کی حکمت اسے شکست دے سکتی ہے۔
تاریخی اعتبارسے یہ بات بھی ثابت ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی اپنی روحانی واخلاقی قوت پربھروساکیا،وہ دنیاکی مضبوط ترین طاقتوں کامقابلہ کرگئے۔بدرواحدکی وادیاں، قسطنطنیہ کے مینار،غرناطہ کی فصیلیں اورسلطنتِ عثمانیہ کی تنظیمات سب اسی حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ خارجی قوتیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب باطن میں خودی کی آگ روشن ہو۔
مجددالفِ ثانی کے مکتوبات سے لے کرشاہ ولی اللہ دہلوی کی ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘اورمولانامودودی کی خطبات وتفہیم القرآن تک ایک ہی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے کہ مسلمان کا اصل امتیازاس کااخلاقی تشخص اوراس کی فکری خودداری ہے۔اقبال اسی روایت کاوہ روشن مینارہیں جسے بیسویں صدی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔لہذاآج جب دنیاعقاب کی جارحیت اوراژدہے کی حکمت کے بیچ تقسیم ہورہی ہے،اقبال کاشاہین اب بھی راستہ دکھاسکتاہے۔شرط صرف یہ ہے کہ نوجوان اپنے باطن میں خودی کی وہ چنگاری پیداکریں جس کی روشنی میں راستے کے تمام سراب مٹ جائیں۔اوراگرامتِ مسلمہ اپنے علمی ورثے،دینی شعوراورتہذیبی وقارسے دوبارہ رشتہ استوارکرلے،توکھوئی ہوئی منزل محض ایک خواب نہ رہے گی بلکہ ایک زندہ حقیقت بن سکتی ہیوہ حقیقت جس کااعلان اقبال نے پوری دنیاکوسنایاتھاکہ:نفس کی تسخیرکے بغیرآفاق کی وسعتیں بے معنی ہیں۔
علامہ اقبال کے مطابق،کائنات کی وسعتوں کوسمجھنایاان پردسترس حاصل کرنااس وقت تک بیکارہے جب تک انسان اپنے نفس پرقابو نہ پالے۔ان کاکہناہے کہ تسخیرِنفس(نفس پر کنٹرول)تسخیرِآفاق(کائنات کوفتح کرنے)سے پہلے لازم ہے،کیونکہ بغیرخودی کی فتح کے بیرونی دنیاکوسمجھنااورفتح کرنابے معنی ہے۔
اقبال ؒکے فلسفے میں’’خودی‘‘کاتصورمرکزی ہے،جونفس کی تسخیرسے وابستہ ہے۔ان کے نزدیک،انسان جب اپنے نفس کوسنوارتااور اس پرقابوپاتاہے،تواس میں کائنات کی حقیقت اوراس کی قوتوں کوسمجھنے کی صلاحیت پیداہوتی ہے۔اقبال نے تسخیرِآفاق کوتسخیرِ نفس کی مشروط یامطلوبہ نتیجہ کے طورپرپیش کیاہے۔جب تک انسان اپنی ذات کاتزکیہ نہیں کرتا،بیرونی دنیا کی فتح محض مادی حصول رہ جاتی ہے اوراس میں کوئی روحانی یاحقیقی معنی نہیں ہوتے۔یہ قول اقبالؒ کی اس سوچ کی عکاسی کرتاہے کہ انسان کو پہلے اپنے اندرکی دنیاپرغلبہ حاصل کرناچاہیے،تاکہ وہ بیرونی دنیاکوصحیح معنوں میں سمجھ سکے اوراس پراپنے صحیح حق کادعویٰ کر سکے۔بغیراس کے،انسان کی تمام کوششیں اورحصول ادھورے اوربے معنی ہوں گے۔ (جاری ہے)