کاشف بٹ
رائیونڈ کے علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ کسی سانحے سے کم نہیں کہ صرف 30 روپے کے تنازع پر دو بھائیوں کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ واجد اور راشد جیسے محنت کش نوجوان، جو گھر کا پیٹ پالنے کے لیے دن رات مزدوری کرتے تھے، محض چند سکوں کے جھگڑے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی بگڑتی ہوئی سوچ اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے۔یہ سوال ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ایک معمولی سا اختلاف اگر انسانی جان کے ضیاع تک پہنچ جائے تو یہ صرف قاتلوں کا جرم نہیں، یہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب یہ ظلم ہو رہا تھا تو درجنوں لوگ تماشائی بنے کھڑے تھے۔ کسی نے آگے بڑھ کر مظلوموں کو بچانے کی کوشش نہیں کی، کسی نے پولیس کو فوری اطلاع نہ دی، بلکہ زیادہ تر لوگ اپنے موبائل فون نکال کر ویڈیو بنانے میں مصروف رہے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری اجتماعی سوچ کس حد تک بے حسی کا شکار ہو چکی ہے۔وجہ کیا ہے؟ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں برداشت ختم ہو رہی ہے، غصہ اور تشدد روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے، اور قانون پر اعتماد کم ہو گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ مداخلت کرنے سے الٹا نقصان اٹھانا پڑے گا، اس لیے چپ چاپ تماشہ دیکھنا ہی بہتر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب تماشائی بنے رہیں گے تو ظلم کو کون روکے گا؟ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے واقعات کو صرف پولیس کیس نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں معاشرتی المیہ قرار دے کر سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ قانون کو تیز اور مؤثر بنایا جائے تاکہ مجرم فوری سزا پائیں۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی کہ لوگوں میں برداشت، قربانی اور انسانیت کا جذبہ پیدا کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ انسان کی جان کسی ویڈیو یا وائرل کلپ سے زیادہ قیمتی ہے۔ہم اگر ظلم کو تماشہ سمجھ کر دیکھتے رہیں گے تو ایک دن یہ تماشہ ہماری اپنی زندگیوں کو بھی نگل لے گا۔