بلوچستان کے عوام کی شکایات اپنی جگہ ہیں، دہشت گردی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے‘سیلاب متاثرین کی مدد کو انا کا مسئلہ کیوں بنالیا گیا، وفاق کو عالمی مدد مانگنی چاہیے تھی،ایسا کیوں نہیں ہو رہا یہ ہم سے نہیں وفاق سے پوچھیں،
سیلاب متاثرین کی مشکلات کا ادراک اور احساس ہے، کاشت کاروں کی مدد کریں گے تاکہ گندم برآمد نہ کرنا پڑے، اپنے وسائل اپنے کسانوں پر استعمال کئے جائیں، سندھ حکومت کاشتکاروں کو زرعی پیکیج دے گی
میرے کزن کافی دیر سے سیاست میں متحرک رہے ہیں، انہیں ویلکم کرتے ہیں، ہمیشہ سے ان کے لئے نیک خواہشات رکھی ہیں، میری یا میری بہنوں کی طر ف سے ان کے خلاف کوئی بیان نہیں آیا:پریس کانفرنس
کراچی (آئی این پی )پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے بلوچستان کا مسئلہ فوجی نہیں سیاسی طریقے سے حل کرنا ہو گا، بلوچستان کے عوام کی شکایات اپنی جگہ ہیں، دہشت گردی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، سیلاب متاثرین کی مدد کو انا کا مسئلہ کیوں بنالیا گیا ہے،متاثرہ لوگوں کو فوری ریلیف پہنچانے کیلئے بی آئی ایس پی واحد پروگرام ہے، بروقت عالمی اپیل کرتے تو متاثرین کی زیادہ مدد کر سکتے تھے، ایسا کیوں نہیں ہو رہا یہ ہم سے نہیں وفاق سے پوچھیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مسئلے کا ملٹری حل نہیں ہے بلکہ سیاسی ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو دکھانا ہوگا کہ صوبے کے سٹیک ہولڈرز وہ خود ہیں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی دہشت گردی کا مقابلہ کر کے کامیاب ہوئے اور آئندہ بھی ہوں گے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کی تھی کہ حالیہ سیلاب کے بعد ملک میں زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ متاثر علاقوں میں کسانوں کے بجلی کے بل معاف کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے نہ صرف ایمرجنسی نافذ کی بلکہ صرف کسانوں کے نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں میں رہائشی صارفین کے بجلی کے بل بھی معاف کرنے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے میں نے وزیراعلی سندھ سے بھی بات کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ وہ صوبے کے حوالے سے اپنا منصوبہ بنائے تاکہ ہم کسانوں کے نقصانات کو پورا کرسکیں، خاص طور پر چھوٹے کسان یا ذمیندار ہیں، ان کی کس طرح سپورٹ کی جاسکتی ہے اور اس میں اگر وفاق بھی ہمارا ساتھ دے گا تو ہم مزید سپورٹ بھی دے سکیں گے‘وفاق کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہیے اور سیلاب متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم کریں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، معاہدے سے متعلق ان کیمرا بریفنگ بھی ہو گی، ملک کو ایک ایکسپورٹر ملک بنا دیا گیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میرے کزن کافی دیر سے سیاست میں متحرک رہے ہیں، انہیں ویلکم کرتے ہیں، ہمیشہ سے ان کے لیے نیک خواہشات رکھی ہیں، میری یا میری بہنوں کی طر ف سے ان کے خلاف کوئی بیان نہیں آیا۔ این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی پالیسی واضح ہے، موجودہ ایوارڈ اٹھارہویں ترمیم سے پہلے کی بنیاد پر طے ہوا ہے جبکہ ترمیم کے بعد صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔