ایف آئی اے لاہور سرکل حرکت میں آگیا ،سعد رضوی بھی شامل ، تمام متعلقہ محکموں کو بھی خط

 30 افراد کے اثاثوں کی چھان بین شروع
مہر قاسم، علامہ غلام عباس ، وزیر علی، ندیم اشرفی، بلال لیاقت، پیر زہیر الحسن ، حاجی ابرار احمد، قاضی محمد محمود ، عنایت الحق شاہ ، پیر عرفان امیر ، علامہ مجاہد اسماعیل ، محمد بلال نور اور دیگر افراد کے شناختی کارڈ نمبرز فراہم
لاہور(کرائم رپورٹر)ایف آئی اے لاہور سرکل کی کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی سمیت 30 افراد کے اثاثوں کی چھان بین، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور زون کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل نے حافظ سعد حسین رضوی سمیت 30 افراد کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں ، جائیدادوں کی چھان بین شروع کر دی ،جاری سرکاری مراسلے کے مطابق سعد رضوی، مہر قاسم، علامہ غلام عباس ، وزیر علی، ندیم اشرفی، بلال لیاقت، پیر زہیر الحسن ، حاجی ابرار احمد، قاضی محمد محمود ، عنایت الحق شاہ ، پیر عرفان امیر ، علامہ مجاہد اسماعیل ، محمد بلال نور اور دیگر افراد کے شناختی کارڈ نمبرز فراہم کئے گئے اور ان کے مکمل ریکارڈ کو مختلف سرکاری اداروں سے طلب کر لیا گیا ۔ دستاویز میں واضح کیا گیا کہ ایف آئی اے نے محکمہ کوآپریٹو، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، ایل ڈی اے، واسا، ریونیو دفاتر اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھی خط لکھ کر تمام افراد کی جائیدادوں کا ریکارڈ، زمینوں کی ملکیت ، ہاؤسنگ سوسائٹیز میں ممکنہ اثاثے ، گاڑیوں اور دیگر منقولہ املاک کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی املاک کی مشتبہ ٹرانزیکشنز، پراپرٹی منتقلی اور ممکنہ منی لانڈرنگ سرگرمیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں شروع کی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اثاثوں کے اسٹیٹمنٹ، رجسٹریز، ٹرانسفر ڈیڈز، بینک ٹریلز اور پراپرٹی ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ سرکاری مراسلے پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی منی لانڈرنگ سرکل ایف آئی اے لاہور کے دستخط موجود ہیں، جس میں بتایا گیا کہ ان تمام افراد کے اثاثے زیرِ تفتیش ہیں، متعلقہ اداروں کوریکارڈ فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔