بجٹ میں شہر کیلئے سات نئے واٹر ٹینکس کی تعمیر شامل کی گئی
سمری جمع ،مطلوبہ فنڈز ابھی تک ریلیز نہیں ہوئے:واسا حکام
لاہور ( کرائم رپورٹر)واسا کا سالانہ ترقیاتی پروگرام اس وقت مالی بحران کی زد میں آ چکا ہے۔حکومتی بجٹ میں منظوری کے باوجود میگا واٹر پراجیکٹس کا مستقبل غیر یقینی صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے بجٹ 2025-26 میں واسا لاہور کے کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی تھی، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث یہ پورا ترقیاتی پروگرام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ بجٹ میں شہر لاہور کے لیے سات نئے واٹر ٹینکس کی تعمیر شامل کی گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کا قذافی سٹیڈیم واٹر ٹینک بھی رواں سال کے اے ڈی پی میں دوبارہ شامل ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ لائف لائن منصوبوں میں سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور لاریکس کالونی سے گلشن راوی تک ٹنل بورنگ کے بڑے منصوبے بھی شامل کیے گئے تھے۔ بجٹ کے تحت تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے فی کس 5 ملین روپے مختص کیے گئے اور حکومت نے اعلان کیا تھا کہ باقی فنڈز سپلیمنٹری گرانٹس کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔حالیہ پیش رفت کے مطابق پنجاب حکومت نے ابتدائی 5 ملین روپے تو واسا کو جاری کر دیے ہیں، لیکن سپلیمنٹری گرانٹ کے تحت منظور شدہ باقی فنڈز تاحال ریلیز نہیں کیے جا سکے۔ فنڈز کے اجرا میں تاخیر کے باعث واسا لاہور کے سالانہ ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ زیادہ تر میگا پراجیکٹس کی رفتار انتہائی سست پڑ چکی ہے۔واسا حکام کے مطابق فنڈز کے اجرا کے لیے پنجاب حکومت کو باقاعدہ سمری بھی ارسال کر دی گئی ہے، لیکن سمری جمع ہونے کے باوجود مطلوبہ فنڈز ابھی تک ریلیز نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ میں منظور شدہ بیشتر ترقیاتی منصوبے مسلسل التوا کا شکار ہیں، جن میں نئے واٹر ٹینکس، سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ٹنل بورنگ جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔یہ وہ صورتحال ہے جس نے واسا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو مکمل طور پر سست روی کا شکار کر دیا ہے اور لاہور کے شہری پانی سے متعلق بہتری کے بڑے منصوبوں کے منتظر ہیں۔