روزگار کا جھانسہ دے کر ویزا د، مگر غیرقانونی سائبر کرائم کے مراکز میں کام کروایا جا رہا ہے
نوجوانوں سے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات چھین کر ایک سیل کے اندر محصور رکھا گیا ہے
پشاور(آئی این پی ) گلگت بلتستان کے 28 نوجوان انسانی سمگلنگ کے شکار بن کر کمبوڈیا میں پھنس گئے جہاں انہیں نجی جیلوں میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق نوجوانوں کو کمبوڈیا میں روزگار کا جھانسہ دے کر ویزا دلایا گیا تھا مگر وہاں پہنچنے کے بعد ان سے غیرقانونی سائبر کرائم کے مراکز میں مجبورا کام کروایا جا رہا ہے۔اہلخانہ کے مطابق نوجوانوں سے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات چھین کر انہیں ایک سیل کے اندر محصور رکھا گیا ہے جہاں سے نکلنا انتہائی مشکل ہے۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا ہے کہ کمبوڈیا میں محصور افراد کے اہل خانہ سے رابطہ کرکے تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ویزا دینے والی کمپنی اور متعلقہ ایجنٹس کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، بہت جلد انکوائری مکمل کر کے کارروائی شروع کی جائے گی۔گلگت بلتستان کے رہائشی یاسین علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بھتیجا 28 اپریل 2025 کو ورک ویزے پر کمبوڈیا گیا تھا۔ انہیں دفترمیں نوکری کا جھانسہ دیا گیا تھا مگر وہاں جا کر ان سے جعلی کال سینٹر میں کام کروایا جا رہا ہے جہاں لوگوں سے فراڈ کر کے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گلگت کے 27 مزید شہری کمبوڈیا کی ایک جعلی کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں، ان افراد سے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات لے لی گئی ہیں تاکہ وہ کہیں نہ جا سکیں۔کمبوڈیا میں موجود ایک اور متاثرہ خاندان کے سربراہ عالم شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا بیٹا شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف میں ہے