سعودیہ ملازمت کا جھانسہ، 14 لاکھ 50 ہزار ہتھیانے والے دو بھائی گرفتار

گرفتار ملزمان کی شناخت شفیق احمد ،غلام مصطفی کے نام سے ہوئی ، گوجرانوالہ کے رہائشی نکلے، لیبیا سے ڈی پورٹ گرفتار 
لاہور(کرائم رپورٹر)ایف آئی اے گوجرانوالہ زون اور سرکل نے انسانی اسمگلروں، غیر قانونی ایجنٹوں اور بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر شہریوں سے رقم بٹورنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔ تازہ کارروائیوں کے دوران سعودی عرب میں ملازمت دلوانے کے نام پر شہری سے 14 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کرنے والے دو بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ لیبیا سے ڈی پورٹ ہونے والے ایک شخص کو بھی حراست میں لے کر اس سے مبینہ ایجنٹوں کے حوالے سے تفتیش شروع کر دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر رقم ہتھیانے کے الزام میں گرفتار ملزمان کی شناخت شفیق احمد ولد ریاست علی اور غلام مصطفیٰ ولد ریاست علی کے نام سے ہوئی ہے، جو گوجرانوالہ کے رہائشی ہیں۔ دونوں کے خلاف ایف آئی اے کرائم سرکل گوجرانوالہ میں مقدمہ نمبر 546/2026 مورخہ 5 جولائی 2026ء سے درج ہے۔حکام کے مطابق ملزمان نے شکایت کنندہ سے 14 لاکھ 50 ہزار روپے اس یقین دہانی پر وصول کیے کہ اسے اور اس کے بہنوئی کو روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب بھجوایا جائے گا تاہم رقم وصول کرنے کے باوجود ملزمان اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے۔ ایف آئی اے ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے خلاف ایمیگریشن آرڈیننس 1979ء کی دفعات 17/22 کے تحت کارروائی جاری ہے۔دوسری کارروائی میں ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے لیبیا سے ڈی پورٹ ہونے والے اسامہ شکیل ولد شکیل احمد کو گرفتار کر لیا۔ اسامہ شکیل گوجرانوالہ کے علاقے لدھیوالہ گورایہ کا رہائشی ہے اور اسے لیبیا سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ایف آئی اے کے مطابق اسامہ شکیل کے خلاف ایف آئی آر نمبر 615/2026 ء درج کی گئی۔ دوران تفتیش ملزم نے بیرون ملک سفر کے معاملے میں فرقان خان اور رانا تصورنامی مبینہ ایجنٹوں کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ایمیگریشن آرڈیننس 1979ء کی دفعات 17/22 کے تحت کارروائی بنتی ہے جبکہ ڈی پورٹی اور مبینہ ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ مزید تفتیش میں تمام افراد کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق بیرون ملک ملازمت کے نام پر شہریوں سے فراڈ، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی طریقوں سے شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا جبکہ گرفتار ملزمان سے رقم کے لین دین اور دیگر سہولت کاروں سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔