اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ریاست کا صبر ختم ہونے پر اس کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں، اور پی ٹی آئی کے مظاہرین کو فوری طور پر واپس چلے جانا چاہیے۔
عطا تارڑ نے یہ بات اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے پی ٹی آئی کی رہنما بشریٰ بی بی کو احتجاج کی قیادت کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ لاشیں گرانے کی منصوبہ بندی کے ساتھ آئی ہیں۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے مظاہرین میں اجرت پر لائے گئے مزدور اور افغان شہری بھی شامل ہیں، اور یہ سب کچھ بیلاروس کے صدر کے دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ پولیس اور رینجرز کے شہداء کا خون کس کے ہاتھ پر ہے اور واضح کیا کہ ریاست فسادیوں کے مقاصد کو پورا ہونے نہیں دے گی۔
آج پی ٹی آئی کے احتجاج کا تیسرا روز ہے، اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ڈی چوک اور اس کے اطراف میں پولیس اور رینجرز کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے، اور ڈی چوک کی طرف بڑھنے والے مظاہرین کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بشریٰ بی بی کی سربراہی میں جی 11 پہنچ چکی ہے، جہاں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ زیرو پوائنٹ پل پر دونوں طرف سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ اس صورتحال میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور حکومت نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔