تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرے میں شر پسندوں نے گاڑی رینجرز اہلکاروں پر چڑھا دی، 4 شہید،7زخمی

اسلام آباد، فوج طلب شرپسندوں کو گولی مارنے کا حکم
2پولیس اہلکار بھی شہید 119,زخمی ، پولیس چوکی جلادی ، بشریٰ بی بی کا ہر صورت ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان 
 پی ٹی آئی وفدکی جیل میںعمران خان سے 2ملاقاتیں ، بانی پی ٹی آئی نے مجھے ہر صورت ڈی چوک جانے کا کہا ہے اس سے کم کسی بھی مذاکراتی فیصلے پر کارکن راضی نہیں ہونگے: بشریٰ بی بی ،قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: سکیورٹی ذرائع

وزیر اعلیٰ کے پی کے مکمل خاموش،بانی پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی، ڈاکٹر عارف علوی ،عمر ایوب، علیمہ خان، علی امین گنڈا پور، اعظم سواتی پر مقدمہ، دہشتگردی سمیت 13 دفعات شامل ،مختلف مقامات پر جھڑپیں ،مزید کئی گرفتار، اسلام آباد میں تعلیمی ادارے آج بھی بند 

اسلام آباد ، لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک ،کرائم رپورٹر ) پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرے کے دوران سری نگر ہائی وے پر شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی جس سے 4 رینجرز اہلکار شہید جبکہ 5 رینجرز اور 2 پولیس کے جوان شدید زخمی ہوگئے, آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو بھی بلا لیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا جبکہ انتشار پھیلانے والوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دے دیے گئے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اب تک رینجرز کے 4 جوان شہید اور پولیس کے 2 جوان شہید ہو چکے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک 119سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد شدید زخمی ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے گاڑی چڑھانے پر 4 رینجرز اہلکار شہید جبکہ 5 رینجرز اور پولیس کے جوان شدید زخمی ہوگئے، وزارت داخلہ کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا۔سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ انتشار اور شرپسندوں سے آ ہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے احکامات دے دیئے گئے، شرپسندوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دے دیئے گئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو پیغام پر بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور سے رابطہ کیا، بانی پی ٹی آئی کے احتجاج کیلئے متبادل جگہ کی حامی بھرنے کے باوجود بشریٰ بی بی نے ماننے سے انکار کردیا۔ بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ چند سازشی عناصر ڈی چوک کے بجائے دوسرے مقام پر ہمیں روکنا چاہتے ہیں۔بشریٰ بی بی نے مؤقف اپنایا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے ہر صورت ڈی چوک جانے کا کہا ہے، ڈی چوک سے کم کسی بھی مذاکراتی فیصلے پر کارکنان راضی نہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔پی ٹی آئی مرکزی قیادت دھرنے کیلئے حتمی مقام کا تعین کرنے میں ناکام نظر ٓتی ہے، مرکزی قیادت میں کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔پی ٹی آئی وفدکی جیل میں عمران خان سے ایک اور ملاقات، حکومتی آپشنز سے آگاہ کیا اس سے قبل بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد کی بانی پی ٹی آئی سے دوسری ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور سے ملاقات کیلئے روانہ ہوئے تھے۔ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد کی بانی پی ٹی آئی کیساتھ ، 40 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت میں بیرسٹر گوہر نے احتجاج اور حکومت کی طرف سے آپشنز سے بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا۔قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کاقافلہ رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوگیا جبکہ ہکلہ کے مقام پر قافلے میں شامل افراد کے تشددسے ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا ،مختلف مقامات پر جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار اور پی ٹی آئی کارکن زخمی ہوئے ،مزید کئی کو گرفتار کرلیاگیا۔ حکومت نے اسلام آباد میں آج بھی تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے برہان انٹرچینج کے قریب ڈھوک گھر میں رات گزارنے کے بعد پی ٹی آئی کا قافلہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب روانہ ہوااوررات کے وقت اسلام آباد میں داخل ہوگیا،دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے کارکن چونگی نمبر 26 پر چاروں طرف سے بڑی تعداد میں نکلے اور شدید نعرے بازی کی جبکہ اس دوران اسلام آباد پولیس کے اہلکار موقع سے غائب ہوگئے ،رینجرز جوان تعینات رہے اور انہوں نے پوزیشن سنبھال لیں۔پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث دوسرے دن بھی جڑواں شہروں میں داخلی وخارجی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند رکھے گئے تاہم اس مرتبہ متعدد مقامات پر گاڑیوں کے گزرنے کیلئے راستہ چھوڑا گیا جس کے باعث مختلف راستوں پر آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا، اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے پر دن کے اوقات میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی چلتی رہی تاہم مختلف راستے مکمل طور پر بند تھے جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔انتظامیہ نے مری کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز لگا کر روڈز بند کر دیئے۔ اس سے قبل ٹی پہاڑی پر موجود پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا جبکہ کارکنوں نے پولیس اہلکاروں سے شیلز اور گن بھی لے لیں، علی امین گنڈا پور نے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو چھڑوایا۔ غازی بروتھا پل پر پولیس کی جانب سے قافلے پر بدترین شیلنگ کی گئی۔ ہزارہ انٹر چینج پر عمر ایوب کے قافلے نے پنجاب پولیس کو پیچھے دھکیلا جس کے بعد علی امین ہزارہ ڈویڑن کے قافلے کو پنجاب پولیس کے حصار سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ہزارہ ڈویڑن کے قافلے کے مرکزی قافلے میں شامل ہونے کے بعد 2 کلو میٹر تک گاڑیاں موجود تھیں۔پشاور کی جانب سے آنے والے علی امین گنڈاپور کے قافلے کے شرکاء￿  اور ہزارہ کی جانب سے آنے والے قافلے کے شرکاء￿  نیہزارہ موٹروے پر ایک ساتھ پولیس پر ہلہ بولا ، شدید پتھراوٓ اور جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دو شدید زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ڈی ایس پی پٹرولنگ راولپنڈی چودھری ذوالفقار کی ٹانگوں اورکمر پرشدید چوٹیں آئیں اور ڈی ایس پی پٹرولنگ جہلم شاہد گیلانی اور اے ایس آئی اٹک تبسم بھی شدید زخمی ہوگئے، ہزارہ موٹروے پر 2 پرائیوٹ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ ا ۔ترجمان پولیس کاکہناہے کہ احتجاج کی آر میں شرپسند وں نے حملہ کرکے کانسٹیبل مبشر کو شہید کردیا ،46سالہ کانسٹیبل کو تعلق مظفر گڑھ سے تھا ،اس کی دوبیٹیا ں اور ایک بیٹا ہے ،حملوں میں 119پولیس اہلکارزخمی بھی ہوئے ،سی سی ٹی وی فوٹیجز سے حملہ آوروں کی شناخت جاری ہے، شر پسندعناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ۔اس موقع پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا کہ ہمارے 119 بندے زخمی ہوئے ہیں، 28 سے زائد گاڑیوں کا نقصان ہوا ہے۔ 24 نومبرکے پرتشدد مظاہروں کا پہلا مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں درج کیاگیا،جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان ، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، ڈاکٹر عارف علوی ،عمر ایوب، علی امین گنڈا پور، علیمہ خان، اعظم سواتی سمیت 300 سے زائد مقامی رہنما اور کارکنوں کونامزد کیاگیاہے ،مقدمے میں دہشت گردی سمیت 13 دفعات شامل ہیں۔ تھانہ دھمیال میں بھی 14دفعات کیساتھ مقدمہ درج کیاگیا۔فیصل آباد کے تھانہ غلام محمد آباد میں بانی پی ٹی آئی سمیت 45 افراد پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ تحریک انصاف کے ایم پی اے علی شاہ خان ایڈووکیٹ کو حسن ابدال سے گرفتار کیاگیا ۔ وفاقی دارالحکومت میں آج بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکول بند رہیں۔