تہران / واشنگٹن: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہ کرے اور مزید پابندیاں عائد کرے تب بھی ایران زندہ رہے گا اور اپنے لیے جینے کا راستہ تلاش کر لے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ:"ایسا ہرگز نہیں کہ اگر وہ (امریکہ) ہم سے بات نہ کریں یا پابندیاں لگائیں تو ہم بھوک سے مر جائیں گے۔ ہم جینے کا راستہ ڈھونڈ لیں گے۔"یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے طویل عرصے سے کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
دوسری جانب امریکا کا مؤقف:
امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران سے متعلق اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ:"ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، ایران سے بہت اچھی بات چیت رہی۔"تاہم، ٹرمپ نے روس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور وہ اس صورتحال سے "ناخوش" ہیں۔انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکا روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
تجزیہ:
صدر پزشکیان کے بیان کو ایرانی خودمختاری اور قومی وقار کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ٹرمپ کی طرف سے مذاکرات کی پیش رفت کی بات نے عالمی سفارت کاری کے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ان بیانات کے تبادلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناؤ اپنی جگہ موجود ہے، لیکن غیراعلانیہ سفارتی روابط یا بیک چینل مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔