اسلام آباد / پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں حالیہ بھرتیوں، ترقیوں اور تقرریوں سے متعلق اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں اہم سفارشات اور مشاہدات پیش کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کی اہم نکات:
اسپیکر بابر سلیم کی خودمختاری تسلیم:
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم قانونی طور پر کسی کے ماتحت نہیں، اور پارٹی کمیٹی انہیں کوئی براہِ راست حکم نہیں دے سکتی۔ تاہم، انہیں پارٹی منشور اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بھرتیوں اور ترقیوں پر نظر ثانی کی سفارش:
کمیٹی نے واضح طور پر تجویز دی ہے کہ اسپیکر اپنے دور میں کی گئی تمام بھرتیوں، ترقیوں اور نان گزیٹڈ سے گزیٹڈ پوسٹوں پر کی جانے والی تقرریوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ اقدامات شفاف، میرٹ پر مبنی اور پارٹی اصولوں کے مطابق تھے۔
پارٹی منشور پر زور:
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ تمام انتظامی و انسانی وسائل کے فیصلے پارٹی کے اصولوں، شفافیت، اور میرٹ پر ہونے چاہییں۔ اسپیکر سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے احکامات اور پالیسی فیصلے جاری کریں جو پارٹی کے اندرونی احتسابی نظام اور عوامی خدمت کے جذبے کے مطابق ہوں۔
سیاسی سیاق و سباق:
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے بعد اپنے اندرونی احتساب کے دعوے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، کچھ حلقوں میں اسمبلی میں کی گئی حالیہ بھرتیوں اور ترقیوں پر تحفظات پائے جا رہے تھے، جس کے بعد اس انکوائری کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
آئندہ لائحہ عمل:
اب نگاہیں اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ کمیٹی کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں یا نہیں۔ اگر اسپیکر جانب سے بھرتیوں کے جائزے کا عمل شروع ہوا تو اسمبلی سیکریٹریٹ میں بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔