گریڈ 21 سے 22 میں ترقیوں پر عدالت کا سخت نوٹس، وفاق کو ریکارڈ جمع کرانے کی آخری مہلت

گریڈ 21 سے 22 میں ترقیوں پر عدالت کا سخت نوٹس، وفاق کو ریکارڈ جمع کرانے کی آخری مہلت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 21 سے 22 میں سرکاری افسران کی ترقیوں کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو مکمل ریکارڈ جمع کرانے کی آخری مہلت دے دی ہے۔

عدالت نے ریکارڈ جمع نہ کرانے پر وفاقی وکلاء پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔جسٹس انعام امین منہاس نے درخواستوں کی سماعت کی جن میں سابق سیکرٹری اطلاعات سہیل علی خان اور دیگر افسران کی جانب سے ترقیوں کے خلاف اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

 دلائل اور ریمارکس:
سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے ترقیوں کا ریکارڈ جمع نہ کروانے پر مزید مہلت کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے کہا:"اہم مقدمات میں سرکاری وکلاء پیش کیوں نہیں ہوتے؟"عدالت نے واضح کیا کہ یہ وفاق کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ افسران کی ترقیوں کا مکمل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل عدالت میں پیش کرے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے مزید کہا کہ:"آئندہ سماعت پر فیصلہ کرونگا۔"
 درخواست گزاروں کے دلائل:
درخواست گزاروں کی جانب سے معروف وکلاء فیصل نقوی ایڈووکیٹ، بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی، شعیب شاہین و دیگر نے پیش ہو کر اپنے مؤقف کی بھرپور وکالت کی۔فیصل نقوی نے دلائل دیے کہ سینیئر افسران کو نظر انداز کر کے جونیئر افسران کو ترقی دی گئی، جس کی کوئی قانونی یا منطقی بنیاد حکومت فراہم نہ کر سکی۔بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے مؤقف اپنایا کہ:"سول سروس میں اعلیٰ ترین تقرریوں کا اختیار صرف وزیراعظم کو حاصل ہے، کیونکہ وہ تمام وزارتوں کی مجموعی کارکردگی سے آگاہ ہوتے ہیں، جب کہ دیگر وزراء صرف اپنی وزارتوں کی حد تک معلومات رکھتے ہیں۔"
 آئندہ سماعت:
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 جون 2025 تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت آئندہ سماعت سے پہلے ترقیوں سے متعلق مکمل دستاویزات عدالت میں پیش کرے۔