ضم اضلاع میں امن و امان بڑا چیلنج، وفاق فنڈز فوری منتقل کرے: بیرسٹر سیف

ضم اضلاع میں امن و امان بڑا چیلنج، وفاق فنڈز فوری منتقل کرے: بیرسٹر سیف

پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ ضم اضلاع میں امن و امان کی صورتحال ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے جبکہ وفاقی حکومت غیرقانونی طور پر ان علاقوں کے فنڈز روک کر بیٹھی ہے۔

بیرسٹر سیف کا بیان:
اپنے جاری کردہ بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا:

"موجودہ حالات کے تناظر میں ضم اضلاع کے فنڈز کا خیبر پختونخوا کو منتقل ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انضمام کے بعد ان اضلاع کے فنڈز صوبے کا آئینی و قانونی حق ہیں۔"
انہوں نے زور دیا کہ "خیبر پختونخوا کو فنڈز سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ وفاق کو سیاسی بغض و عناد سے بالا تر ہو کر امن و امان جیسے اہم قومی مسئلے پر صوبائی حکومت سے تعاون کرنا ہوگا۔"
امن و امان کے لیے اقدامات:
بیرسٹر سیف کے مطابق:

صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود ضم اضلاع میں امن قائم رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اربوں روپے مختص کیے جا چکے ہیں تاکہ شدت پسندی اور دہشت گردی جیسے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
 وفاق پر "سوتیلی ماں" جیسا رویہ رکھنے کا الزام:
مشیر اطلاعات نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ساتھ "سوتیلی ماں جیسا سلوک" کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضم اضلاع میں بدامنی بڑھی تو اس کے اثرات صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ پورے ملک کی سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔