اسلام آباد / استنبول / تہران: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف ترکیہ کا 2 روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت سے خطے کے حالات، باہمی تعاون اور معاشی شراکت داری سے متعلق اہم ملاقاتیں کریں گے۔
وزیراعظم کے اس دورے کا مقصد ترکیہ کی قیادت اور عوام، بالخصوص صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کے مؤقف کی غیر متزلزل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرنا تھا۔ سفارتی ماہرین اس دورے کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
ترکیہ میں پرتپاک استقبال اور رخصتی
استنبول ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کو ترک حکومت کی جانب سے پرتپاک انداز میں رخصت کیا گیا۔ ترک وزیر دفاع یشار گیولر، استنبول کے ڈپٹی گورنر الکر حاقتان کچمز، پاکستان ترکیہ کلچرل ایسوسی ایشن کے صدر برہان قایاترک، ترکیہ میں پاکستان کے سفیر یوسف جنید اور استنبول میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل نعمان اسلم سمیت اعلیٰ ترک حکام اور پاکستانی سفارتی عملہ موجود تھا۔
ترکیہ میں اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں
وزیراعظم کے دورے کے دوران ترکیہ کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ اقتصادی تعاون، علاقائی سیکیورٹی اور عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور ثقافتی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
تہران میں اہم سفارتی مصروفیات کا آغاز
ترکیہ کے کامیاب دورے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ایران روانہ ہو گئے ہیں۔ ایرانی دارالحکومت تہران میں وہ ایرانی صدر، وزیر خارجہ اور دیگر اہم حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک ایران سرحدی تعاون، تجارتی راہداری، توانائی منصوبوں اور سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو متوقع ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی بھی تہران روانہ
دریں اثنا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی آج ایک روزہ دورے پر تہران روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ وزیراعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد کا حصہ ہوں گے۔ ان کا دورہ ایران میں سیکورٹی تعاون اور بارڈر مینجمنٹ پر بات چیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سفارتی اہمیت
وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ سفارتی سفر، جس میں ترکیہ اور ایران شامل ہیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے فعال اور متحرک انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دورے نہ صرف علاقائی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ملک کے عزم کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔