منی لانڈرنگ کیس،شہباز شریف فیملی کیخلاف درخواست خارج

شہزاداکبرنیشہبازشریف، حمزہ ،سلمان شہباز کی بریت کو چیلنج کیا تھا 
بانی پی ٹی آئی کیخلاف وزیراعظم کی ہرجانہ کیس کی سماعت 2جون تک ملتوی 

لاہور( کورٹ رپورٹر)ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت دیگر کے خلاف اہم پیش رفت، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے شہزاد اکبر کی درخواست کو عدم پیروی خارج کر دیا۔ شہزاداکبر نے شہباز شریف حمزہ شہباز سلمان شہباز کی ایف آئی اے کورٹ کا بریت کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے مرزا شہزاد اکبر کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔مرزا شہزاد اکبر نے اپنے وکیل ہارون الیاس کی وساطت سے شریف فیملی کی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔تحریری فیصلے کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے سال2020 کو پی ٹی آئی کی حکومت میں شریف فیملی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد ایف آئی اے عدالت نے شہباز شریف ، سلمان شہباز سمیت دیگر کو مقدمے سے بری کردیا تھا۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے مرزا شہزاد اکبر کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر عدم پیروی کی بنیاد پر درخواست کو خارج کردیا۔دوسری جانب لاہور کی سیشن عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب ہرجانے کے دعوے پر کارروائی دو جون تک ملتوی کر دی ۔دوران سماعت وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عدالت میں جج سمیت تمام افراد کو بھارت سے جنگ جیتنے پر مبارک باد دی۔لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یلماز غنی نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی پر 10ارب روپے ہرجانے کے دعوے پر سماعت کی تو دوران سماعت وزیر اعظم شہباز شریف جرح کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے جرح میں وزیراعظم محمدشہباز شریف سے سوال کیا کہ جو الزام لگایا گیا کیا وہ تحریری طور پر لگایا گیا اس پر وزیر اعظم نے جواب دیا کہ جو الزام لگایا گیا وہ ٹی وی پر کئی بار کہا گیا اس پر بانی پی ٹی آئی کیو کیل نے سوال کیا کہ کیا آپ بھی سیاست میں اس طرح کے الزام لگاتے رہے ہیں تو شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی ثبوت کے بغیر بات نہیں کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا کہ دعوے میں اخبارات کو فریق نہیں بنایا گیا نہ ہی لیگل نوٹس بھجوائے گئے کیا یہ بھی بات درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اخبارات کو کوئی ایسا بیان نہیں دیا تھا اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ وزیر اعظم نے جرح میں یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کوئی اور دوسرا دعویٰ دائر نہیں کیا بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی تقاریر اور بیانات کے محرکات کیا تھے شہباز شریف نے کہا کہ یہ بات آپ مدعا علیہ سے پوچھیں۔ وکیل نے سوال کیا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ کیا ہوا تھا اس پر شہباز شریف نے کہا کہ پانامہ کیس ان کے خلاف نہیں تھا انہیں فیصلے کا معلوم نہیں، شہباز شریف نے کہا کہ وہ پانامہ کیس میں فریق نہیں تھے یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے سوال دہرایا سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف فریق ہیں اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہوں گے لیکن وہ فریق نہیں تھے۔